سینیٹر طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ نورین نیازی کی صحت کے معاملے میں کوئی کمی کوتاہی نہیں برتی جائے گی اور ان کا علاج ڈاکٹروں کے مشورے سے کیا جا رہا ہے۔
سینیٹر طلال چوہدری نے ایوان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ نورین نیازی کی صحت کے حوالے سے کوئی کمی کوتاہی نہیں ہوگی۔ نورین نیازی کو ان کی ذاتی خواہش پر نہیں بلکہ ڈاکٹرز کے معالجاتی مشورے کے بعد اسپتال لایا گیا ہے کیونکہ علاج ذاتی خواہش سے نہیں بلکہ ڈاکٹروں کے مشورے سے ہوتا ہے اور یہی ڈاکٹرز فیصلہ کریں گے کہ انہیں کہاں لے جانا ہے۔
اس بیان پر پی ٹی آئی کے ارکان کی جانب سے ایوان میں شدید احتجاج اور شور شرابہ کیا گیا، جس پر پریزائیڈنگ افسر نے ہدایت کی کہ ایوان کو چلنے دیا جائے کیونکہ یہ اس طرح نہیں چل سکتا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر اعظم سواتی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بڑی بیٹی کی نورین نیازی سے ملاقات کرائی ہے، جس پر وہ حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کیونکہ حکومت نے علاج کے لیے بھی معاونت کی ہے۔
پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ یہ بات ان کو بھی بتانی چاہیے جبکہ اعظم سواتی نے مطالبہ کیا کہ چھوٹی بیٹی کو بھی نورین نیازی سے ملنے کی اجازت دی جائے۔
اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے سینیٹ اجلاس میں خیال ظاہر کیا کہ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ نورین نیازی کی بیٹی سے ملاقات کروائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کا مکمل احترام ہونا چاہیے لیکن یہاں انہیں جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے جبکہ انہیں گھروں میں بھی نظر بند کیا جا سکتا تھا۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوبے پر قبضہ کر لیا ہے اور گورنر راج لگا دیا ہے، اس لیے کم از کم اب تو ہماری بہن اور بیٹیوں کو جیلوں سے رہا کر دینا چاہیے۔






