یمنی فوج نے ملک بھر میں جاری آپریشن کے دوران حوثی ملیشیا کے مزید 307 ارکان کو ہلاک اور زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حوثیوں کی جانب سے تعز شہر پر قبضے کی کوششوں کے بعد شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
یمنی فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملک میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں 736 آپریشنز کیے گئے، جن میں حوثی ملیشیا کے 307 ارکان کو ہلاک کردیا گیا۔ اس دوران حوثیوں کی 68 فوجی گاڑیوں اور بھاری ہتھیاروں کو بھی تباہ یا نقصان پہنچایا گیا۔
یمنی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ڈان آف یمن کے تحت کمانڈ سینٹرز، جنگجوؤں کے اجتماعات، رسد کے راستوں اور اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں۔
دوسری جانب یمن کے شہر تعز کے محاذوں پر لڑائی میں شدید تیزی آ گئی ہے کیونکہ حوثی جنگجوؤں نے شہر پر قبضہ کرنے کے لیے مغربی محاذ پر پیش قدمی کی کوشش کی ہے۔
الدباب، جبل ہان اور جنوب مغربی یمن کے دیگر علاقوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، جہاں سرکاری فوج حوثیوں کے حملے ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
تعز کے مشرقی، شمال مشرقی اور شمال مغربی علاقوں کے علاوہ جنوبی داخلی راستے پر بھی شدید حملے کیے جا رہے ہیں جبکہ جبل سبور اور گرد و نواح کے علاقوں میں رہائشی بستیاں مسلسل نشانہ بن رہی ہیں۔
مقامی حکام، قبائلی عمائدین اور سماجی شخصیات نے حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کو زبردستی جنگ میں جھونکنے اور بھرتی کرنے کی شدید مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈے کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گے۔






