باراک اوباما نے مڈٹرم انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کے دوران ایران جنگ اور مہنگائی کے معاملے پر موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔
امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل سابق صدر باراک اوباما نے انتخابی میدان میں اترتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران جنگ اور بلند ترین صارف قیمتوں کے معاملے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اوہائیو میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات موجودہ انتظامیہ کی احمقانہ پالیسیوں کو لگام دینے کا آخری بہترین موقع ہیں۔ انہوں نے ووٹرز پر زور دیا کہ دو سال کے انتشار، بے رحمی اور بدعنوانی کے بعد اب یہ کہنے کا وقت آ گیا ہے کہ بہت ہو چکا۔
باراک اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مہنگائی اور معاشی خدشات کی وجہ سے ڈیموکریٹس سے مایوس ہونے والے ووٹرز کو سمجھتے ہیں لیکن موجودہ معاشی حالت کی ذمے داری براہ راست ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جارجیا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی انتظامیہ کی امیگریشن اور ٹیکس پالیسیوں کی تعریف کی اور حامیوں سے کہا کہ امریکا سنہری دور سے گزر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ تیل کی قیمتیں عارضی طور پر بلند ہیں لیکن ان کا ملک تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے اور فیول کی قیمتیں نیچے آئیں گی۔
ٹرمپ نے اپنی ریلی میں ہر امریکی کو پانچ ہزار ڈالر کی ادائیگی کا وعدہ بھی دہرایا اور ڈیموکریٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کی دولت لوٹنا اور سرحدوں کو غیر محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔
ریلی کے دوران دونوں رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر لفظی حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ تین نومبر کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے طے ہوگا کہ کانگریس پر کس پارٹی کا کنٹرول ہوگا۔






