امریکی انٹیلی جنس اداروں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ ایران بیرون ملک امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبوں پر عمل پیرا ہے، جس کے بعد واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتی عملے کو ہائی الرٹ کر دیا۔
امریکی حکام اور جاری کردہ سرکاری میمو کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران بیرون ملک مقیم امریکی عملے کو نشانہ بنانے کے لیے آخری مراحل کی تیاریوں میں مصروف ہے، جس کے بعد واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنے عملے کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتی عملے کی تعداد میں کمی کرنا شروع کر دی ہے۔
نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جے کلیٹن کی جانب سے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو بھیجے گئے ایک میمو میں بتایا گیا کہ امریکی ایجنسیوں کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایران نے بیرون ملک امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر ممالک میں مہلک منصوبے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔
ادھر محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں اپنے سفارت خانے سے غیر ضروری عملے کو ہلا دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور لبنان میں بھی امریکی مشنز کے عملے کو خفیہ طور پر کم کر دیا گیا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق ایران کے ساتھ شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 21 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے نئے حملے کیے تو تہران جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔






