تازہ ترین
اسرائیلی انتخابات سے قبل ہزاروں افراد کا نیتن یاہو کیخلاف مظاہرہ، سکیورٹی ناکامی پر تحقیقات کا مطالبہایرانی اسپیکر باقر قالیباف کی بھارت میں برکس پارلیمانی فورم کے اجلاس میں شرکت سے معذرتایران بیرون ملک امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، امریکی انٹیلی جنس ادارےفرانس میں مہنگائی اور تعلیمی نظام کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے، ایک ہزار افراد گرفتارمشرق وسطیٰ کی جنگ کے خلیجی سمندر پر زہریلے اثرات، ماحولیاتی بحران کا خدشہباراک اوباما کی ٹرمپ انتظامیہ پر کڑی تنقید، مہنگائی اور ایران جنگ کو بڑا مسئلہ قرار دے دیا24 گھنٹوں میں حوثی ملیشیا کے مزید 307 ارکان ہلاک، تعز شہر پر حوثیوں کے قبضے کی کوشش، شدید جھڑپیںحوثیوں کے سعودی عرب پر داغے گئے میزائل فضاء میں ہی تباہ، ٹکرے مکہ ریجن اور جدہ میں ٹکڑے گر گئےاسرائیلی انتخابات سے قبل ہزاروں افراد کا نیتن یاہو کیخلاف مظاہرہ، سکیورٹی ناکامی پر تحقیقات کا مطالبہایرانی اسپیکر باقر قالیباف کی بھارت میں برکس پارلیمانی فورم کے اجلاس میں شرکت سے معذرتایران بیرون ملک امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، امریکی انٹیلی جنس ادارےفرانس میں مہنگائی اور تعلیمی نظام کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے، ایک ہزار افراد گرفتارمشرق وسطیٰ کی جنگ کے خلیجی سمندر پر زہریلے اثرات، ماحولیاتی بحران کا خدشہباراک اوباما کی ٹرمپ انتظامیہ پر کڑی تنقید، مہنگائی اور ایران جنگ کو بڑا مسئلہ قرار دے دیا24 گھنٹوں میں حوثی ملیشیا کے مزید 307 ارکان ہلاک، تعز شہر پر حوثیوں کے قبضے کی کوشش، شدید جھڑپیںحوثیوں کے سعودی عرب پر داغے گئے میزائل فضاء میں ہی تباہ، ٹکرے مکہ ریجن اور جدہ میں ٹکڑے گر گئے
دنیا

فرانس میں مہنگائی اور تعلیمی نظام کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے، ایک ہزار افراد گرفتار

فرانس

فرانس بھر میں مہنگائی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے پیش نظر بڑے پیمانے پر پُراشد مظاہرے کیے گئے، جن کے دوران ایک ہزار افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ دارالحکومت پیرس میں چار لاکھ سے زائد مظاہرین میں سے تقریباً ایک لاکھ دس ہزار افراد نے شرکت کی، جو کہ گزشتہ ہفتے کے برابر ہی تعداد ہے۔

مظاہرین کی جانب سے ملک کے تعلیمی نظام میں بڑی سرمایہ کاری، نوجوان کارکنوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع اور مہنگائی پر قابو پانے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

فرانسیسی وزیر داخلہ لورینٹ نونیز نے میڈیا کو بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے بیشتر احتجاجی مارچ پرامن رہے، تاہم سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے اور انہیں غیر مجاز جلوس نکالنے یا شہر کے مرکز کی طرف بڑھنے سے روکا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ بعض شہروں میں دکانوں میں لوٹ مار یا توڑ پھوڑ کے اککا دکا واقعات پیش آئے، جو کہ پچھلے ہفتے کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ حکام کے مطابق سرکاری عمارتوں پر کسی قسم کے ٹارگٹڈ حملے کی اطلاع نہیں ملی۔

مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کو انتہائی سطح کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جہاں مظاہرین کی جانب سے مسلسل پتھراؤ اور آتش بازی کا استعمال کیا گیا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

فرانسیسی حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ملک بھر میں ستر ہزار پولیس اہلکار، سوات یونٹس، ہیلی کاپٹرز اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کی تھیں۔

دریں اثنا، انتہائی بائیں بازو کی پارٹی کے رہنما جین لوک میلینشون نے خبردار کیا ہے کہ اگر صدر ایمانوئل میکرون نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو پانچ نومبر کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔