فرانس بھر میں مہنگائی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے پیش نظر بڑے پیمانے پر پُراشد مظاہرے کیے گئے، جن کے دوران ایک ہزار افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ دارالحکومت پیرس میں چار لاکھ سے زائد مظاہرین میں سے تقریباً ایک لاکھ دس ہزار افراد نے شرکت کی، جو کہ گزشتہ ہفتے کے برابر ہی تعداد ہے۔
مظاہرین کی جانب سے ملک کے تعلیمی نظام میں بڑی سرمایہ کاری، نوجوان کارکنوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع اور مہنگائی پر قابو پانے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لورینٹ نونیز نے میڈیا کو بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے بیشتر احتجاجی مارچ پرامن رہے، تاہم سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے اور انہیں غیر مجاز جلوس نکالنے یا شہر کے مرکز کی طرف بڑھنے سے روکا۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ بعض شہروں میں دکانوں میں لوٹ مار یا توڑ پھوڑ کے اککا دکا واقعات پیش آئے، جو کہ پچھلے ہفتے کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ حکام کے مطابق سرکاری عمارتوں پر کسی قسم کے ٹارگٹڈ حملے کی اطلاع نہیں ملی۔
مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کو انتہائی سطح کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جہاں مظاہرین کی جانب سے مسلسل پتھراؤ اور آتش بازی کا استعمال کیا گیا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
فرانسیسی حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ملک بھر میں ستر ہزار پولیس اہلکار، سوات یونٹس، ہیلی کاپٹرز اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کی تھیں۔
دریں اثنا، انتہائی بائیں بازو کی پارٹی کے رہنما جین لوک میلینشون نے خبردار کیا ہے کہ اگر صدر ایمانوئل میکرون نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو پانچ نومبر کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔






