اسرائیلی عام انتخابات سے چند روز قبل تل ابیب میں ہزاروں افراد نے حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا، جس میں غزہ جنگ سے قبل سکیورٹی ناکام ہونے کے حقائق جاننے کے لیے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل میں ہونے والے پہلے عام انتخابات سے تین روز قبل ہزاروں شہریوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور غزہ کی جنگ سے پہلے کے سکیورٹی نقائص کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن تشکیل دینے کا پرزور مطالبہ کیا۔
یہ احتجاجی مظاہرہ تل ابیب کے مشہور عوامی چوک ہوسٹیجز اسکوائر پر کیا گیا، جس کا اہتمام اکتوبر کونسل نے کیا تھا۔ یہ تنظیم تین سال قبل غزہ اغوا کیے گئے افراد کے اہل خانہ نے حکومت کی اس نااہلی کا محاسبہ کرنے کے لیے بنائی تھی، جو حماس کے حملے کو روکنے میں ناکام رہی تھی۔
احتجاجی مظاہرے سے قبل اکتوبر کونسل نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ انتخابات سے تین روز قبل وہ سچائی سامنے لانے، جوابدہی کا مطالبہ کرنے اور ریاستی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے لیے اپنے تین سالہ جدوجہد کے اس اہم ترین مرحلے پر احتجاج کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے دیگر حصوں میں بھی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی قیادت میں حکومت مخالف مظاہرے کیے گئے، جن میں وزیراعظم نیتن یاہو کے مرکزی حریف اور یشار پارٹی کے رہنما گادی آئزنکوٹ بھی شامل تھے۔
تل ابیب میں عوام کی بڑی تعداد نے گادی آئزنکوٹ کا شاندار استقبال کیا، جبکہ ڈیموکریٹس کے رہنما یائر گولان بھی اس احتجاج کا حصہ تھے۔
واضح رہے کہ منگل کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں پولز کے مطابق مقابلہ انتہائی سخت ہے اور نیتن یاہو کا دائیں بازو کا بلاک اور اپوزیشن کے حریف کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
یہ انتخابات اس بات کا فیصلہ کرنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں کہ آیا اسرائیل ایران کے خلاف ایک اور فوجی مہم شروع کرتا ہے یا نہیں۔






