مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے نتیجے میں پھیلنے والی ماحولیاتی آلودگی نے خلیجی سمندر اور منفرد سمندری حیات کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیئے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ ایک بار پھر ایسے زہریلے اثرات چھوڑ رہی ہے، جو خطے کے قدرتی ماحول کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ بمباری اور میزائل حملوں کے نتیجے میں فضا میں بھاری دھاتیں اور مضر صحت کیمیکل خارج ہو چکے ہیں۔
امریکا، اسرائیل اور ایران کے حملوں نے تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں تہران کا مطلع گہرے سیاہ دھوئیں اور تیل سے آلودہ بارش کی لپیٹ میں آ گیا اور لاکھوں افراد خطرناک آلودگی کا شکار ہوئے۔
یہ فضائی اور سمندری حملے خلیج فارس کے ماحول کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آبی گزرگاہوں میں بحری جہازوں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں تیل کا رساؤ ہوا ہے، جسے خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے مطابق امارت ام القوین میں تیل کے رساؤ کے باعث ساحل عارضی طور پر بند کرنے پڑے ہیں اور حکام ماحولیاتی اثرات کو کنٹرول کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطے میں ایک وسیع پیمانے پر آلودگی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
سمندری امور کے محققین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کا شمار دنیا کے انتہائی نازک اور منفرد سمندری سسٹمز میں ہوتا ہے، جو نایاب سمندری کچھوؤں، مچھلیوں کی سینکڑوں اقسام اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی ڈوگونگ آبادی کا مسکن ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خلیج فارس کی اتھلی ساخت اور صرف ایک داخلی و خارجی راستے (آبنائے ہرمز) کے باعث آلودگی آسانی سے تحلیل نہیں ہوتی، جس سے سمندری حیات اور خطے کے لاکھوں افراد کو پینے کا پانی فراہم کرنے والے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو شدید خطرات لاحق ہیں۔






