ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک سات شرائط پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا جاتا، امریکہ سے نہ تو کسی قسم کی بات چیت ہوگی اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا۔
ایران نے امریکہ کے سامنے واضح سرخ لکیریں کھینچتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ جب تک واشنگٹن تہران کی جانب سے بتائی گئی سات بنیادی شرائط پر مکمل عمل درآمد نہیں کرتا، اس وقت تک کوئی نیا قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ ان مطالبات کو کسی بھی صورت میں تبدیل یا پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔
ذرائع کے مطابق یہ سات شرائط اقساط یا مرحلہ وار نہیں بلکہ ایک ہی بار میں یکمشت پوری کی جانی چاہئیں۔ جب تک ایران کی یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، نہ تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کی نئی بات چیت کا آغاز ہوگا۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ سفارتی دباؤ کے باوجود وہ اپنے اس مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ جوہری معاملے پر بات کرتے ہوئے ذریعے نے کہا کہ اس مسئلے کو دوبارہ اٹھانے کا مقصد صرف ایران کو اس کے جوہری ڈیٹرنس کارڈ سے محروم کرنا اور واشنگٹن کی جنگ کو کامیابی کے طور پر پیش کرنا ہے۔
اس کے علاوہ تہران نے ثالثوں کو بھی سخت پیغام دیا ہے کہ وہ ثالثی کے اصولوں کی پاسداری کریں اور امریکہ کے مطالبات ایران پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں۔
ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں موجود کسی بھی امریکی اڈے کو ایران کے خلاف استعمال کیا گیا تو تہران کی جانب سے اس کا منہ توڑ اور فوری جواب دیا جائے گا۔
سابق ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ملک کے وسطی دور کے انتخابات سے پہلے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایران کے ساتھ کسی نہ کسی سمجھوتے کے خواہاں ہیں۔
یاد رہے کہ ایران کی ان سات شرائط میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی و مخاصمانہ کارروائیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بازیابی، بحری اور تیل کی ناکہ بندی کا خاتمہ، اقتصادی و سیاسی پابندیوں کا رفع ہونا، ایران کے قریب سے امریکی بحری اور فضائی افواج کا انخلا، جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ اور امریکی دھمکیوں و توین آمیز رویے کا مستقل خاتمہ شامل ہے۔






