ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں ایران کے خلاف اگلے لائحہ عمل کے معاملے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، جہاں بعض عہدیدار سخت فوجی کارروائی کے حامی ہیں تو وہیں کچھ وزراء سفارت کاری اور مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے اندرونی ذرائع کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو موجودہ ایرانی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے جوہری معاہدے کے امکانات پر شدید شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور وہ تہران کو مزید کمزور کرنے کے لیے فوجی حملے جاری رکھنے کے حامی ہیں۔
اس کے برعکس نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سفارتی مذاکرات کی بحالی کی پرزور حمایت کر رہے ہیں۔ ادھر وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا مؤقف ہے کہ فوجی کارروائی کی بجائے تہران پر اقتصادی دباؤ کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب قطری ثالثوں نے کشیدگی کم کرنے اور براہِ راست بات چیت بحال کرنے کے لیے تہران میں 12 گھنٹے طویل مذاکرات کیے ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالث فریقین کو ایسے باہمی اقدامات پر رضامند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن سے جوہری پروگرام پر تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔
تاہم امریکہ مذاکرات سے قبل ایران سے جوہری امور پر اہم رعایتیں مانگ رہا ہے، جبکہ تہران بحری ناکہ بندی کے خاتمه، منجمد اثاثوں کی بحالی اور تیل کی برآمد کی اجازت کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اس دوران خلیجی ممالک اور ترکیہ نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے سے پورے خطے میں تباہی پھیل سکتی ہے اور دنیا بھر میں توانائی کا سنگین بحران جنم لے سکتا ہے۔






