ایف بی آئی نے کریپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے چوری ہونے والی ریکارڈ 6.3 ارب ڈالر کی مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کے اس بڑے فراڈ کا الزام شمالی کوریا پر عائد کر دیا۔
ایف بی آئی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے چوری شدہ اثاثوں کو بنیادی طور پر ایتھریم نامی کریپٹو کرنسی میں تبدیل کر کے ان کی منی لانڈرنگ کی۔
امریکی ایجنسی کے مطابق اس کارروائی کے پیچھے ٹریڈر ٹریٹرز نامی گروپ کا ہاتھ ہے، جس پر فروری میں بائبیٹ پلیٹ فارم سے 1.5 ارب ڈالر چرانے کا بھی الزام تھا۔
ایف بی آئی نے ورچوئل اثاثہ جات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس منی لانڈرنگ کے عمل کو روکنے کے لیے مشکوک ڈیجیٹل ایڈریسز کو بلاک کریں۔
دوسری جانب بائنانس نے ایک الگ بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس نے کمپنی کے اپنے فنڈز استعمال کرتے ہوئے چوری شدہ رقم کا 90 فیصد حصہ نئے ٹوکنز خرید کر پورا کر دیا ہے۔
باقی 10 فیصد حصہ کم لیکویڈ ٹوکنز پر مشتمل ہے، جن کی خریداری میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اس مالی نقصان کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا جائے گا اور اس مقصد کے لیے بائنانس کے محفوظ ایسٹ فنڈ برائے صارفین اور کارپوریٹ ٹریژری کے فنڈز استعمال کیے گئے ہیں۔






