جرمنی کے دارالحکومت برلن سمیت ملک بھر کے 30 سے زائد شہروں میں ہزاروں طلبہ اور شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بھرپور مظاہرہ کیا۔
برلن کے مشہور برینڈنبرگ گیٹ کے قریب منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں طلبہ کے علاوہ معمر خواتین، بائیں بازو کے کارکنوں اور مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
یہ احتجاج جین زی ریگلٹ نامی ایک غیر رسمی اتحاد کی کال پر کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق صرف برلن میں تقریباً 5 ہزار افراد نے احتجاج میں حصہ لیا، جبکہ ملک بھر میں اس تحریک کے تحت ایک لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکلے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ، تعلیمی اداروں کے بجٹ میں کٹوتیاں اور عسکری اخراجات میں اضافہ موجودہ حکومت کی سنگین سیاسی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
طلبہ نے شکوہ کیا کہ حکومت ایک طرف تعلیم اور فلاحی خدمات کے فنڈز ختم کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف فوج پر اربوں یورو خرچ کیے جا رہے ہیں۔
ادھر جرمنی کے مغربی شہر کولون میں احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔






