تازہ ترین
نیا امریکی حملہ ہوا تو جواب مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوجامریکیوں کے پاس پیش کرنے کو کچھ نیا نہیں، ایران اب ایٹمی معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، علی نیک زادپاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ تصادم کی صورت میں تمام جغرافیائی حدود ختم کرنے کا اعلانگلگت بلتستان کی عوام کو جمہوری اور آئینی حقوق دینا ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداریسزا اور جزا کے نظام کے بغیر کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں ہو سکتی، گورنر خیبرپختونخوابھارتی پنجاب اسمبلی کا کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا متفقہ مطالبہپاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیاوزیراعلیٰ پنجاب نے اگلے 3 سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کی اسکل ڈویلپمنٹ کا ہدف دے دیانیا امریکی حملہ ہوا تو جواب مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوجامریکیوں کے پاس پیش کرنے کو کچھ نیا نہیں، ایران اب ایٹمی معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، علی نیک زادپاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ تصادم کی صورت میں تمام جغرافیائی حدود ختم کرنے کا اعلانگلگت بلتستان کی عوام کو جمہوری اور آئینی حقوق دینا ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداریسزا اور جزا کے نظام کے بغیر کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں ہو سکتی، گورنر خیبرپختونخوابھارتی پنجاب اسمبلی کا کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا متفقہ مطالبہپاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیاوزیراعلیٰ پنجاب نے اگلے 3 سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کی اسکل ڈویلپمنٹ کا ہدف دے دیا
دنیا

ایران کی سات شرائط پوری ہوں تو سفارت کاری کے لیے تیار ہیں، محسن رضائی

سات شرائط

محسن رضائی نے کہا ہے کہ اگر تہران کی سات شرائط پوری کر دی جائیں تو سفارت کاری کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، ورنہ کسی بھی حملے کا بھرپور اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران نے بارہا واضح کیا ہے کہ اس کی بتائی گئی سات شرائط کو پورا کیا جانا لازمی ہے۔ اگر یہ شرائط مان لی جاتی ہیں تو سفارتی مذاکرات کا راستہ کھلا ہے۔

تاہم انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر ملک کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی کی گئی تو ایرانی مسلح افواج سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق حملہ آوروں کو جدید ترین ہتھیاروں کے ذریعے تباہ کن جواب دیں گے۔

یہ بیان ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے مسلح افواج کو دی گئی اس ہدایت کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے فوج کو بغیر کسی جغرافیایی پابندی کے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر حملے دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور وہ تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔