بھارت میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمان شہریوں کے خلاف ہجومی تشدد اور امتیازی سلوک کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارتی جریدے کلیرین انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریاست بہار میں ہندوتوا عناصر کے ایک گروہ نے مسجد پر حملہ کر کے املاک میں شدید توڑ پھوڑ کی اور نماز کی ادائیگی میں مصروف شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
حملے کے دوران مسجد کے امام کو شدید ہراساں کیا گیا اور مسجد کو بم سے اڑانے سمیت نمازیوں کو سیدھی گولیاں مارنے کی کھلی دھمکیاں دی گئیں۔
دوسری جانب سیاست ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میں تشدد پسند تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے مسلمان تاجروں کو بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔
اطلاعات کے مطابق پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے تشدد میں زخمی ہونے والے مسلمان تاجروں کے ساتھ انسانی سوز سلوک کیا گیا اور انہیں اسپتال کے اندر بستر کی سہولت دینے کے بجائے زمین اور فرش پر لٹا دیا گیا۔
حقوقِ انسانی کے عالمی ماہرین اور اداروں کے مطابق بھارت میں مسلسل پیش آنے والے ایسے واقعات اقلیتوں کی مذہبی آزادی اور تحفظ پر شدید سوالات اٹھا رہے ہیں۔






