تازہ ترین
نیا امریکی حملہ ہوا تو جواب مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوجامریکیوں کے پاس پیش کرنے کو کچھ نیا نہیں، ایران اب ایٹمی معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، علی نیک زادپاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ تصادم کی صورت میں تمام جغرافیائی حدود ختم کرنے کا اعلانگلگت بلتستان کی عوام کو جمہوری اور آئینی حقوق دینا ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداریسزا اور جزا کے نظام کے بغیر کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں ہو سکتی، گورنر خیبرپختونخوابھارتی پنجاب اسمبلی کا کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا متفقہ مطالبہپاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیاوزیراعلیٰ پنجاب نے اگلے 3 سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کی اسکل ڈویلپمنٹ کا ہدف دے دیانیا امریکی حملہ ہوا تو جواب مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوجامریکیوں کے پاس پیش کرنے کو کچھ نیا نہیں، ایران اب ایٹمی معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، علی نیک زادپاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ تصادم کی صورت میں تمام جغرافیائی حدود ختم کرنے کا اعلانگلگت بلتستان کی عوام کو جمہوری اور آئینی حقوق دینا ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداریسزا اور جزا کے نظام کے بغیر کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں ہو سکتی، گورنر خیبرپختونخوابھارتی پنجاب اسمبلی کا کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا متفقہ مطالبہپاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیاوزیراعلیٰ پنجاب نے اگلے 3 سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کی اسکل ڈویلپمنٹ کا ہدف دے دیا
دنیا

مودی کے بھارت میں مسلمانوں پر ہندوتوا عناصر کے حملوں میں تشویشناک حد تک اضافہ

بھارت

بھارت میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمان شہریوں کے خلاف ہجومی تشدد اور امتیازی سلوک کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

بھارتی جریدے کلیرین انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریاست بہار میں ہندوتوا عناصر کے ایک گروہ نے مسجد پر حملہ کر کے املاک میں شدید توڑ پھوڑ کی اور نماز کی ادائیگی میں مصروف شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

حملے کے دوران مسجد کے امام کو شدید ہراساں کیا گیا اور مسجد کو بم سے اڑانے سمیت نمازیوں کو سیدھی گولیاں مارنے کی کھلی دھمکیاں دی گئیں۔

دوسری جانب سیاست ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میں تشدد پسند تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے مسلمان تاجروں کو بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے تشدد میں زخمی ہونے والے مسلمان تاجروں کے ساتھ انسانی سوز سلوک کیا گیا اور انہیں اسپتال کے اندر بستر کی سہولت دینے کے بجائے زمین اور فرش پر لٹا دیا گیا۔

حقوقِ انسانی کے عالمی ماہرین اور اداروں کے مطابق بھارت میں مسلسل پیش آنے والے ایسے واقعات اقلیتوں کی مذہبی آزادی اور تحفظ پر شدید سوالات اٹھا رہے ہیں۔