تازہ ترین
پاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیںپاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیں
دنیا

عراق کا ٹرمپ کو دوٹوک پیغام: ہماری سرزمین ایران یا کسی پڑوسی ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہوگی، نئی جنگ پورے خطے کو تباہی میں دھکیل دے گی

Exclusive
عراق کی خودمختاری

بغداد (جی ٹی وی نیوز اردو) — 6 نومبر 2026: ایران کے خلاف امریکی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان عراق نے واشنگٹن کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اس کی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے عراق کی خودمختاری کے احترام اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔

الجزیرہ کے مطابق وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ علی الزیدی نے واضح کیا ہے کہ عراقی سرزمین کو پڑوسی ممالک پر حملوں کے لیے لانچنگ پوائنٹ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

ایران پر نئی جنگ عراق کے لیے تباہی ہوگی، وزیر خارجہ

عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے بھی ایران کے خلاف ممکنہ نئی امریکی فوجی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عراقی ٹی وی چینل دیجلا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ عراقی معاشرے کو جنگ میں دھکیلنا تباہ کن نتائج پیدا کرے گا۔

فواد حسین کا کہنا تھا کہ نہ عراقی معاشرہ اور نہ ہی ملک کی مسلح افواج کسی نئی جنگ کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے عراقی مسلح گروہوں کو بھی خبردار کیا کہ وہ ایران کی جانب سے کسی ممکنہ جوابی کارروائی میں شریک نہ ہوں، کیونکہ اس سے عراق مزید علاقائی تنازع میں الجھ سکتا ہے۔

عراق پہلے ہی جنگ کی قیمت ادا کرچکا ہے

عراقی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی حملوں کے بعد عراق خود بھی میدانِ جنگ بن گیا اور اسے امریکا، ایران اور ملک کے اندر سرگرم مسلح گروہوں سے متعلق حملوں اور سیکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق عراق کو جنگ کے باعث تیل کی آمدنی میں 60 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوچکا ہے۔

عراق کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات معمول کے حالات میں آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں، جبکہ اس راستے میں خلل نے عراقی معیشت اور سرکاری بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔

عراق کا وفاقی بجٹ بھی بڑی حد تک تیل کی آمدنی پر انحصار کرتا ہے۔

بغداد امریکا اور ایران دونوں سے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے

عراق کے لیے موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے۔ ایک طرف امریکا کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران اس کا پڑوسی ملک ہے اور دونوں کے درمیان گہرے سیاسی، مذہبی اور معاشی روابط موجود ہیں۔

وزیر خارجہ فواد حسین کا کہنا تھا کہ عراق کسی محور کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور نہ ہی اپنی سرزمین کو علاقائی جنگ کا میدان بننے دے گا۔

بغداد کا مؤقف ہے کہ خطے کے ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور تنازعات کا حل فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات سے نکالا جائے۔

کیا ایران کے خلاف نئی جنگ کا دائرہ پھیل سکتا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کے امکانات پر غور کررہے ہیں، جبکہ خطے کے کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے تیز کررہے ہیں۔

عراق کا حالیہ پیغام ظاہر کرتا ہے کہ بغداد کسی نئی جنگ میں فریق بننے کے بجائے اپنے ملک کو اس کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔

عراق نے واشنگٹن کو واضح کردیا ہے کہ اس کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطے کی بڑی طاقتیں سفارت کاری کو موقع دیں گی، یا ایک نئی جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ کو مزید عدم استحکام سے دوچار کردے گی؟