تازہ ترین
پاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیںپاک چین دوستی کی ایک اور مثال قائم، پاکستانی خلا باز پرواز کے لیے تیارپاکستان میں رمضان 2027 کا آغاز کب ہوگا؟ متوقع تاریخ سامنے آگئیبلیک ہیڈز بار بار کیوں نکل آتے ہیں؟ ان کی اصل وجہ اور چھٹکارے کے مؤثر طریقے جانیںواٹس ایپ کا زبردست نیا فیچر متعارف ہونے کو تیارپاکستان کے بینکوں اور اہم تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ نے اہم ایڈوائزری جاری کردیمحکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کردیایران کا امریکہ کو نیا ایٹمی فارمولا، یورینیم افزودگی 3.6 فیصد تک محدود کرنے کی پیشکش ممکن ہے، مسعود خانخواتین مردوں سے زیادہ عمر کیوں پاتی ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی سائنسی وجوہات جانیں
دنیا

عباس عراقچی کے عراق، تیونس اور مصر کے وزرائے خارجہ سے رابطے، خطے میں نئی جنگ روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز

عباس عراقچی کے سفارتی رابطے

تہران (جی ٹی وی نیوز اردو): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام کی بحالی کے لیے عراق، تیونس اور مصر کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔

گفتگو میں خطے کی صورتحال، ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے تنازع روکنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے عراقی وزیر خارجہ فواد حسین اور تیونس کے وزیر خارجہ محمد علی نفتی کو خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔

مصری وزیر خارجہ سے بھی علاقائی صورتحال پر گفتگو

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی سے بھی رابطہ کیا، جس میں علاقائی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان سفیر نادر ذکی کے مطابق گفتگو میں خطے میں دوبارہ فوجی تصادم کے خدشات اور اس کے علاقائی و عالمی امن و سلامتی پر ممکنہ اثرات زیر بحث آئے۔

اس موقع پر مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے سفارتی ذرائع اور سیاسی حل کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ انہوں نے تمام فریقین سے لچک اور مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا قابلِ قبول سمجھوتہ ضروری ہے جس میں تمام فریقین کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔

مصر کا فوجی کشیدگی روکنے پر زور

بدر عبدالعاطی کے مطابق فوجی کشیدگی کی نئی لہر کے سنگین سیاسی، معاشی اور انسانی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ مصری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قاہرہ خطے میں کشیدگی پر قابو پانے، سیاسی حل کی حمایت اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے متعلقہ فریقین کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔