تازہ ترین
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیںدل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیں
کاروبار

پاکستان میں پیٹرول کے 22 اور ڈیزل کے 30 دن کے ذخائر موجود تھے، وزیر پیٹرولیم

پیٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر ملکی ضروریات کے لیے کافی تھے اور اس وقت اضافی ایندھن بچت اقدامات کی ضرورت نہیں تھی۔

جواب میں بتایا گیا کہ حکومت درآمدات اور مقامی ریفائنریوں کی پیداوار کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی برقرار رکھی جا سکے۔ ستمبر 2026 کے لیے پیٹرول کی طلب، درآمدات کی منصوبہ بندی اور ڈیزل کے ذخائر سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔

پیٹرول کی طلب اور ذخائر

تحریری جواب کے مطابق ستمبر 2026 میں پیٹرول کی طلب تقریباً 6 لاکھ 92 ہزار ٹن متوقع تھی، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے 5 لاکھ 11 ہزار ٹن پیٹرول کی درآمدات کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق 22 ستمبر تک ملک میں پیٹرول کے ذخائر تقریباً 3 لاکھ 95 ہزار ٹن تھے۔ بندرگاہوں اور سمندری حدود میں موجود جہازوں کو شامل کیا جائے تو مجموعی دستیابی تقریباً 5 لاکھ 6 ہزار ٹن بنتی تھی۔ جواب میں کہا گیا کہ یہ مقدار تقریباً 22 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی تھی۔

ڈیزل کی دستیابی کی صورت حال

ڈیزل کے حوالے سے بتایا گیا کہ ستمبر 2026 میں اس کی درآمد کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی، کیونکہ ملکی ذخائر اور ریفائنریوں کی متوقع پیداوار کو ضروریات کے لیے کافی سمجھا گیا تھا۔

تحریری جواب کے مطابق 22 ستمبر تک ڈیزل کے ذخائر تقریباً 5 لاکھ 68 ہزار ٹن تھے، جو تقریباً 30 دن کی ضروریات کے برابر تھے۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ دستیاب ذخائر اور مقامی پیداوار کی نگرانی کے ذریعے ملک میں ایندھن کی فراہمی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

پیٹرول کی فروخت میں اتار چڑھاؤ

حکومتی جواب کے مطابق جولائی 2026 میں پیٹرول کی فروخت گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 18 فیصد بڑھی۔ تاہم اگست میں پیٹرول کی فروخت جولائی کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد کم رہی۔

یہ اعداد و شمار ایندھن کی طلب میں ماہانہ تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم فراہم کردہ تحریری جواب میں فروخت میں اضافے یا کمی کی مخصوص وجوہات کی تفصیل نہیں دی گئی۔

قیمتوں کا تعین اور کمپنیوں کے کلیمز

تحریری جواب میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے سات کاروباری دنوں کی اوسط قیمت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ جواب کے مطابق اوگرا مقررہ طریقہ کار کے تحت ایکس ڈپو قیمتیں جاری کرتی ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیمتوں کے فرق سے متعلق کلیمز بھی بیان کیے۔ جواب کے مطابق ان کلیمز کی مالیت 120.3 ارب روپے تھی، جن میں سے 53.8 ارب روپے ادا کیے جا چکے تھے۔

مجموعی طور پر حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ مدت میں دستیاب ذخائر ملکی ضروریات کے لیے کافی تھے۔ تاہم ایندھن کی تازہ صورت حال جاننے کے لیے نئی سرکاری رپورٹس اور تازہ اعداد و شمار دیکھنا ضروری ہے۔

نوٹ: ذخائر اور فروخت کے اعداد و شمار قومی اسمبلی میں دیے گئے تحریری جواب سے منسوب ہیں اور ان کا تعلق ستمبر 2026 کی صورت حال سے ہے۔