پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے وفاقی حکومت فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ وسیع کرنے پر غور کر رہی ہے۔
اس مجوزہ توسیع کے تحت اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ 27 لاکھ سے بڑھا کر 2 کروڑ تک کرنے کی تجویز ہے۔ اگر اس منصوبے کی منظوری مل گئی تو مزید لاکھوں شہریوں کو پیٹرول کی مد میں مالی سہولت مل سکتی ہے۔
حکومت سفری اخراجات میں اضافے کے باعث عوام پر پڑنے والے مالی دباؤ کو کم کرنا چاہتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے فیول ریلیف پروگرام میں توسیع کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے مطابق پیٹرول ریلیف پروگرام کا دائرہ بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ تاہم اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حکومت نے توسیع پر عمل درآمد کی تاریخ بھی جاری نہیں کی۔
موجودہ فیول ریلیف اسکیم میں کن افراد کو فائدہ مل رہا ہے؟
موجودہ اسکیم کے تحت اہل موٹر سائیکل سواروں، تھری وہیلر استعمال کرنے والوں اور 800 سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کے مالکان کو ریلیف فراہم کرنے کی سہولت موجود ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے اہل افراد کو فی لیٹر پیٹرول پر 100 روپے تک مالی ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
اس سہولت کا مقصد ان شہریوں کے سفری اخراجات کم کرنا ہے جو روزمرہ ضروریات، ملازمت یا کاروبار کے لیے اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں استعمال کرتے ہیں۔
2 کروڑ افراد تک اسکیم پہنچانے کی تجویز
حکومت کی جانب سے زیر غور منصوبے کے مطابق فیول ریلیف اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد ایک کروڑ 27 لاکھ سے بڑھا کر 2 کروڑ کی جا سکتی ہے۔ اس طرح موجودہ مستفید افراد کے علاوہ مزید شہری بھی اس پروگرام میں شامل ہو سکیں گے۔
مجوزہ توسیع کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پیٹرول کی قیمتوں کے اثرات سے کچھ حد تک تحفظ فراہم کرنا ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جن کے لیے روزانہ سفر کرنا ضروری ہے اور پیٹرول کے اخراجات ان کے ماہانہ بجٹ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ریلیف کی رقم اور رجسٹریشن کا طریقہ ابھی واضح نہیں
فیول ریلیف اسکیم میں توسیع کی تجویز سامنے آنے کے باوجود اس کے نئے قواعد و ضوابط سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ توسیع کی صورت میں فی لیٹر ریلیف کی رقم میں کوئی تبدیلی ہوگی یا نہیں۔ اسی طرح اہلیت کے معیار اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کے بارے میں بھی کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
حکومت کی جانب سے باضابطہ منظوری اور اعلان ہونے تک موجودہ اسکیم کے قواعد ہی برقرار رہیں گے۔ شہریوں کو چاہیے کہ نئی رجسٹریشن یا اضافی ریلیف سے متعلق کسی بھی خبر پر عمل کرنے سے پہلے سرکاری اعلان کا انتظار کریں۔





