اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے غیر متوقع نتائج میں عرب ووٹرز کی ریکارڈ شرکت نے ملک کے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، جس نے روایتی سیاسی دھڑوں کے اقتدار کے خوابوں کو ادھورا کردیا۔
اسرائیلی انتخابات کے حالیہ نتائج نے ملک کے سیاسی منظرنامے میں ایک نیا اور غیر متوقع موڑ لا کھڑا کیا ہے۔ اگرچہ انتخابات کسی بھی ایک واضح فاتح کے بغیر اختتام پذیر ہوئے، لیکن ایک تاریخی واقعے نے مقابلے میں شامل دونوں بڑے سیاسی دھڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
تازہ ترین گنتی کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد ترپن نشستیں اور گادی آئزنکوٹ کا دھڑا تقریباً 48 نشستیں حاصل کر سکا، دونوں دھڑے حکومت بنانے کے لیے درکار کم از کم 61 نشستوں کا ہندسہ نہیں چھوسکے۔
تاہم دوسری طرف عرب جماعتوں نے جوائنٹ لسٹ اور یونائٹڈ لسٹ کے تحت تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں 19 نشستیں حاصل کر لی ہیں، جو اسرائیل کی تاریخ میں عرب نمائندگی کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ماضی میں عرب ووٹرز کا ٹرن آؤٹ مسلسل کم ہو رہا تھا اور 2021 میں یہ 40 فیصد سے بھی نیچے آ گیا تھا، تاہم رواں ہفتے کے انتخابات میں عرب ووٹرز نے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے تقریبا 80 فیصد ٹرن آؤٹ ریکارڈ کروایا، جو ملک بھر کی مجموعی ووٹنگ کی شرح سے بھی زیادہ ہے۔
اس غیر معمولی سیاسی سرگرمی کے پیچھے بنیادی طور پر نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے خلاف شدید غصہ، بڑھتے ہوئے جرائم، اور انتخابات کے دن خوف پھیلانے والے حربے کارفرما تھے۔
عرب ووٹرز کی اس زبردست شرکت نے نیتن یاہو کو تنہا حکومت بنانے سے روک دیا ہے اور اب اسرائیل کی سیاست میں جوڑ توڑ، سودے بازی اور نئی اتحادی حکومت کی تشکیل کے لیے انتہائی دلچسپ اور پیچیدہ مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔






