تازہ ترین
نیا امریکی حملہ ہوا تو جواب مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوجامریکیوں کے پاس پیش کرنے کو کچھ نیا نہیں، ایران اب ایٹمی معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، علی نیک زادپاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ تصادم کی صورت میں تمام جغرافیائی حدود ختم کرنے کا اعلانگلگت بلتستان کی عوام کو جمہوری اور آئینی حقوق دینا ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداریسزا اور جزا کے نظام کے بغیر کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں ہو سکتی، گورنر خیبرپختونخوابھارتی پنجاب اسمبلی کا کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا متفقہ مطالبہپاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیاوزیراعلیٰ پنجاب نے اگلے 3 سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کی اسکل ڈویلپمنٹ کا ہدف دے دیانیا امریکی حملہ ہوا تو جواب مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوجامریکیوں کے پاس پیش کرنے کو کچھ نیا نہیں، ایران اب ایٹمی معاملے پر مذاکرات نہیں کرے گا، علی نیک زادپاسداران انقلاب کا امریکہ کے ساتھ تصادم کی صورت میں تمام جغرافیائی حدود ختم کرنے کا اعلانگلگت بلتستان کی عوام کو جمہوری اور آئینی حقوق دینا ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداریسزا اور جزا کے نظام کے بغیر کوئی بھی چیز ٹھیک نہیں ہو سکتی، گورنر خیبرپختونخوابھارتی پنجاب اسمبلی کا کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا متفقہ مطالبہپاکستان نے آسٹریلیا کو ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیاوزیراعلیٰ پنجاب نے اگلے 3 سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کی اسکل ڈویلپمنٹ کا ہدف دے دیا
پاکستان

پیپلزپارٹی وفد کی اپوزیشن سے ملاقات، انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں شمولیت کی دعوت

پیپلزپارٹی

پیپلزپارٹی کے وفد نے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی اور انہیں انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔

سینیٹر شیری رحمان کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے وفد نے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے چیمبر میں جا کر اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی۔

ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے مطالبہ کیا کہ شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مشترکہ تجاویز مرتب کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اعتماد کا حامل انتخابی نظام وضع کرنا پیپلزپارٹی کا بنیادی مقصد ہے اور اپوزیشن جماعتیں انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اپنی تجاویز پیش کریں۔

سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل پر بار بار اٹھنے والے سوالات پارلیمان کی ساکھ کو شدید متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ووٹرز کے حقوق کے تحفظ اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تجویز پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل انتخابی اصلاحات کمیٹی کے قیام کی قرارداد منظور ہوئی تھی اور یہ کمیٹی اپنی سفارشات منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کرے گی۔ دوسری جانب علامہ راجہ ناصر عباس نے انتخابات میں شفافیت مؤثر بنانے کی اس تجویز سے اتفاق کیا۔

ملاقات میں پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت سینیٹر شیری رحمان کر رہی تھیں جبکہ دیگر ارکان میں نیئر بخاری، ندیم افضل چن اور سینیٹر وقار مہدی شامل تھے۔ جبکہ اپوزیشن وفد میں علامہ راجا ناصر عباس، محمود اچکزئی، نور الحق قادری اور سینیٹر علی ظفر شامل تھے۔