گلگت بلتستان میں یکم نومبر 1947ء کو ڈوگرہ راج کے خاتمے اور پاکستان سے الحاق کی یاد میں یومِ آزادی کا دن انتہائی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان کا یومِ آزادی آج یکم نومبر کو انتہائی جوش و جذبے اور شاندار طریقے سے منایا جا رہا ہے۔ یکم نومبر 1947ء کو گلگت اسکاؤٹس اور مقامی جانبازوں نے میجر ولیم براؤن کی قیادت میں ڈوگرہ راج کے خلاف تاریخی اقدام کرتے ہوئے آزادی حاصل کی اور خطے میں پاک پرچم لہرایا۔
آزادی کے بعد یہاں عارضی حکومت قائم کی گئی اور عوام نے بلا مشروط پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔ گلگت کی آزادی کے بعد بلتستان کی آزادی کے لیے معرکہ جاری رہا اور 14 اگست 1948ء کو بلتستان کا علاقہ بھی ہندوستانی و ڈوگرہ تسلط سے آزاد کرا لیا گیا۔
جنگِ آزادی کے دوران گلگت بلتستان کے جوانوں نے شجاعت اور دلیری کی عظیم داستانیں رقم کیں اور اپنی سرزمین کو بھارتی تسلط میں جانے سے ہمیشہ کے لیے روک دیا۔
اس موقع پر خطے کے عوام 1947ء کے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان سے اپنی گہری والہانہ وابستگی اور قومی شناخت کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔
آزادی کا دن یاد کرنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے عوام اور نوجوان آئینی حقوق کی فراہمی، صوبائی حیثیت، نیز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مؤثر نمائندگی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آئینی حقوق کی فراہمی سے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے نئے باب کھلیں گے اور قومی یکجہتی کو مزید فروغ ملے گا۔
دریں اثناء پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے یومِ آزادیِ گلگت بلتستان کی مناسبت سے خصوصی ملی نغمہ ’’شانِ پاکستان، گلگت بلتستان‘‘ بھی جاری کیا ہے۔
نامور شاعر ذیشان مہدی کا یہ کلام گلوکار جے جے علی شینا کی آواز میں پیش کیا گیا ہے، جو خطے کی تاریخی جدوجہد اور پاکستان سے محبت و عقیدت کی ترجمانی کرتا ہے۔






