جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو مدارس کی رجسٹریشن، مالی شفافیت، اثاثوں اور طلبہ کے سیاسی استعمال جیسے اہم امور پر سوالات کا سامنا ہے، جن کے جوابات شواہد اور آڈٹ رپورٹس سے دینا ہوں گے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے مدارس، ان کی رجسٹریشن اور طلبہ کے سیاسی استعمال پر دوٹوک اور نا جھٹلائے جانے والے سوالات کیے گئے ہیں، جو محض وضاحت طلب نہیں کرتے بلکہ مدارس کے انتظامی ڈھانچے، مالی شفافیت، رجسٹریشن، ذاتی اثرورسوخ اور طلبہ کے سیاسی استعمال کے حوالے سے جوابدہی کا تقاضا کرتے ہیں۔
پہلا سوال جامعہ معارف الشریعہ، ڈیرہ اسماعیل خان کی سربراہی اور مالی معاملات کے اصل اختیار کے متعلق ہے کہ اس کا اختیار کس کے پاس ہے؟ 2021 میں وفاق المدارس کے اعلان میں مولانا فضل الرحمٰن کو اس جامعہ کا سربراہ بتایا گیا تھا، لہٰذا کیا وہ اس ادارے کی انتظامی ذمہ داریوں، مالی اختیارات اور اثاثوں کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے کے لیے تیار ہیں؟
دوسرا سوال وفاق المدارس کی سربراہی اور ہزاروں مدارس کی ملکیت کے فرق سے متعلق ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمٰن یہ واضح کریں گے کہ وفاق المدارس کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے ان کا اختیار صرف تنظیمی امور تک محدود ہے یا وہ انفرادی مدارس کے انتظامی اور مالی معاملات میں بھی مداخلت کرتے ہیں؟
تیسرا سوال جولائی 2026 میں وفاق المدارس کے اہم عہدوں کے لیے تقرریوں کے طریقۂ کار کے بارے میں ہے کہ امیدواروں کا انتخاب کس بنیاد پر ہوا؟ کیا انٹرویوز، میرٹ، تنظیمی شفافیت اور انتخابی عمل کا کوئی مستند ریکارڈ موجود ہے؟
چوتھا سوال جامعہ معارف الشریعہ کی تازہ رجسٹریشن کے متعلق ہے کہ اس ادارے کی قانونی حیثیت، ٹرسٹ یا انتظامی تنظیم، رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور بنیادی دستاویزات عوام کے لیے دستیاب ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو انہیں سامنے لانے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟
پانچواں سوال مدارس کے نام پر جمع ہونے والے عطیات، زکوٰۃ اور دیگر مالی رقوم کے حساب کتاب کے بارے میں ہے کہ اس کا حساب کون دیتا ہے؟ کیا تمام متعلقہ مدارس کے سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس موجود ہیں؟ کیا ان کی آزادانہ آڈٹ رپورٹس اور آمدن و اخراجات کی تفصیلات عوام کو فراہم کی جا سکتی ہیں؟
چھٹا سوال مدارس کے بینک اکاؤنٹس اور جمعیت علمائے اسلام کے سیاسی و جماعتی اکاؤنٹس کے الگ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق ہے کہ کیا اس بات کی آزادانہ آڈٹ سے تصدیق ہو سکتی ہے کہ مدارس کے عطیات، زکوٰۃ اور چندے کو کسی سیاسی سرگرمی، جلسے، مارچ یا جماعتی اخراجات کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا؟
ساتواں سوال خیبرپختونخوا میں 2025 کے مدارس رجسٹریشن قواعد پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کے اسباب سے متعلق ہے کہ کیا متعلقہ مدارس کی قانونی رجسٹریشن، اصل سرٹیفکیٹس اور قانونی حیثیت کی تفصیلات پیش کرنے کی تیاری ہے؟
آٹھواں سوال اس بات پر ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے مدارس کی نئی رجسٹریشن کے لیے مخصوص سرکاری نظام پر اعتراض کیوں کیا تھا؟ اس کی قانونی اور انتظامی وجوہات کیا تھیں؟ کیا وہ کسی ایسے متبادل نظام کی حمایت کرتے ہیں، جو مدارس کی رجسٹریشن، مالی نگرانی اور جوابدہی یقینی بنائے؟
نواں سوال دسمبر 2024 میں سینیٹ کو بتائے گئے 17 ہزار 738 رجسٹرڈ مدارس اور تقریبا 22 لاکھ طلبہ کے اعدادوشمار سے متعلق ہے کہ ان میں سے کتنے مدارس مولانا فضل الرحمٰن کے وفاق سے وابستہ ہیں؟ ان کی ملکیت، انتظامی سربراہان، مالی ذرائع اور طلبہ کی مستند تعداد کا ریکارڈ کہاں ہے؟
دسواں سوال جامعہ حلیمیہ میں تقریر اور ادارے کے انتظامی معاملات پر اختلافات کی حقیقت کے متعلق ہے کہ کیا کسی بھی مدرسے کے انتظامی ڈھانچے میں شخصی اثرورسوخ کو ادارہ جاتی قواعد پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے؟ کیا وہ اس ادارے کی انتظامی خودمختاری اور مالی ریکارڈ کی آزادانہ جانچ کی حمایت کریں گے؟
گیارہواں سوال 2019 کے آزادی مارچ میں مدارس کے طلبہ کی شرکت سے متعلق ہے کہ یہ شرکت کس کے حکم اور کس انتظام کے تحت ہوئی؟ کیا طلبہ کو تعلیمی اداروں سے سیاسی سرگرمیوں میں لایا گیا؟ کیا والدین کی رضامندی، طلبہ کی آزادانہ مرضی اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا گیا تھا؟
بارہواں سوال مفتی محمد نعیم کی جانب سے 2019 میں مدارس کے طلبہ کی آزادی مارچ میں شمولیت پر اٹھائے گئے اعتراض کے جواب سے متعلق ہے کہ کیا اس اصول سے اتفاق کیا جاتا ہے کہ مدارس کے طلبہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے اور ان کی تعلیم کو ہر سیاسی سرگرمی پر ترجیح حاصل ہونی چاہیے؟
چند اور بنیادی سوالات جن سے مزید گریز نہیں کیا جا سکتا، ان میں یہ شامل ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمٰن اپنے زیراثر مدارس کی مکمل فہرست، رجسٹریشن کی حیثیت اور انتظامی سربراہان کے نام عوام کے سامنے لائیں گے؟
کیا وہ گزشتہ 5 سال کے عطیات، زکوٰۃ، چندے اور اخراجات کا آزادانہ آڈٹ کروانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا وہ اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ مدارس کے مالی وسائل جمعیت کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوتے؟
کیا وہ مدارس کے طلبہ کو سیاسی جلسوں، لانگ مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں سے الگ رکھنے کا واضح اعلان کریں گے؟ کیا وہ مدارس کے انتظامی معاملات کو خاندانی، شخصی اور سیاسی اثرورسوخ سے آزاد رکھنے کی حمایت کرتے ہیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ مدارس دینی تعلیم و تربیت کے خودمختار ادارے ہیں یا انہیں سیاسی اثرورسوخ، مالی وسائل اور طلبہ کی سیاسی صف بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب نعروں سے نہیں، دستاویزی ثبوت، شفاف آڈٹ اور قابلِ تصدیق ریکارڈ سے دینا ہوگا۔






