بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خاتون باکسر عابدہ بتول نے بین الاقوامی باکسنگ چیمپئن شپ کے لیے کوالیفائی کرکے ایک اہم کامیابی حاصل کرلی ہے۔ وہ تھائی لینڈ میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی، جہاں ان کا مقابلہ میزبان ملک کی باکسر سے ہوگا۔
عابدہ بتول کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان کی پہلی خاتون باکسر ہیں جنہوں نے اس بین الاقوامی چیمپئن شپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ بلوچستان کی ان لڑکیوں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا مثال ہے جو کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کا خواب دیکھتی ہیں۔
عالمی سطح کے مقابلے میں شرکت کے لیے کوالیفائی کرنا کسی بھی کھلاڑی کے لیے اہم سنگ میل ہوتا ہے۔ عابدہ بتول کے لیے یہ موقع اس لیے بھی خاص ہے کہ وہ ایسے صوبے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں خواتین کے لیے کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع محدود رہے ہیں۔ ان کی کامیابی سے بلوچستان میں خواتین کی کھیلوں میں شمولیت اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
عابدہ بتول نے عالمی سطح پر پاکستان کے لیے اعزاز حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خواب ہے کہ وہ عالمی ٹائٹل جیت کر نہ صرف ملک کا نام روشن کریں بلکہ دیگر لڑکیوں کو بھی یہ پیغام دیں کہ محنت، لگن اور مستقل مزاجی سے کھیلوں کے میدان میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
تھائی لینڈ میں ہونے والا مقابلہ ان کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا، جہاں انہیں میزبان ملک کی باکسر کا سامنا کرنا ہے۔ بین الاقوامی مقابلوں میں مختلف ممالک کے کھلاڑی اپنی تکنیک، رفتار، جسمانی فٹنس اور تجربے کی بنیاد پر ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں، اس لیے عابدہ بتول کے لیے تیاری اور کارکردگی دونوں اہم ہوں گی۔
ان کی کامیابی نے بلوچستان میں خواتین کے کھیلوں کے حوالے سے ایک مثبت مثال قائم کی ہے۔ عابدہ بتول کی خواہش ہے کہ ان کی کامیابی سے مزید لڑکیاں باکسنگ سمیت دیگر کھیلوں کی طرف آئیں اور اپنے لیے نئے مواقع پیدا کریں۔
بلوچستان کی اس باصلاحیت باکسر کا اگلا ہدف بین الاقوامی مقابلے میں بہترین کارکردگی دکھانا اور عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنا ہے۔ ان کے عزائم اور کامیابی نے یہ پیغام دیا ہے کہ مواقع اور حوصلہ ملیں تو خواتین بھی عالمی کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں۔






