تازہ ترین
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیںدل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں 13 سال میں کتنے اسپتال اور یونیورسٹیاں بنیں؟ وزیراعظم کا پی ٹی آئی سے سوالبالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا انتقال کرگئےسعودی عرب جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئیآزاد جموں و کشمیر میں فسادی جتھے کی تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پھر منظرِعام پرافغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی، 12 صوبوں میں 19 حملےکراچی کے موسم سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آگئیکراچی؛ سمندر سے واپسی کے بعد 4 ماہی گیروں کی ایک ہفتے کے دوران پُراسرار اموات، پولیس کی تحقیقات شروعبلڈ پریشر بڑھنے سے پریشان ہیں؟ واک کے لیے روزانہ اتنا وقت ضرور نکالیں
سائنس و ٹیکنالوجی

پی ٹی اے کی کارروائی، غیر فعال سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک ہونے لگے

غیر فعال سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیر فعال، منسوخ یا طویل عرصے سے استعمال نہ ہونے والی موبائل سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی اطلاع دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے اکاؤنٹس کے ممکنہ غلط استعمال، فراڈ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کرنا ہے۔

پی ٹی اے اس سے قبل بھی آگاہی مہم کے ذریعے صارفین کو ہدایت کر چکی ہے کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس ایسے موبائل نمبرز سے منسلک رکھیں جو فعال ہوں اور جن پر ان کا اپنا کنٹرول برقرار ہو۔ اتھارٹی نے خبردار کیا تھا کہ غیر فعال سم سے منسلک اکاؤنٹ کی سکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔

غیر فعال موبائل نمبر خطرہ کیوں بن سکتا ہے؟

پی ٹی اے کے مطابق موبائل نمبر غیر فعال یا منسوخ ہونے کے بعد بعض صورتوں میں کسی دوسرے صارف کو دوبارہ جاری کیا جا سکتا ہے۔ اگر سابقہ صارف کا واٹس ایپ اکاؤنٹ اب بھی اسی نمبر سے منسلک ہو تو اکاؤنٹ کی سکیورٹی اور اس کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ایسی صورت میں سابقہ صارف کو اپنے اکاؤنٹ پر کنٹرول برقرار رکھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ دوبارہ جاری کیے گئے نمبر کے ذریعے نئے صارف اور سابقہ اکاؤنٹ کے درمیان الجھن پیدا ہونے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ اسی لیے صارفین کو اپنے موبائل نمبرز اور واٹس ایپ رجسٹریشن کی بروقت جانچ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

واٹس ایپ نمبر تبدیل کرنے کا طریقہ

پی ٹی اے نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ اپنا موبائل نمبر تبدیل کر چکے ہیں تو واٹس ایپ کی Change Number سہولت استعمال کرتے ہوئے اکاؤنٹ کو نئے، فعال اور اپنے کنٹرول میں موجود نمبر پر منتقل کریں۔

صارفین کو چاہیے کہ وہ صرف ایسے نمبر کو اکاؤنٹ کے ساتھ منسلک رکھیں جس کی سم ان کے استعمال میں ہو اور جس تک ان کی رسائی برقرار ہو۔ اس سے اکاؤنٹ کی سکیورٹی بہتر بنانے اور نمبر دوبارہ کسی دوسرے شخص کو جاری ہونے سے پیدا ہونے والے ممکنہ مسائل سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سم کی حیثیت کیسے معلوم کریں؟

اگر کسی صارف کو اپنی سم کے فعال ہونے، رجسٹریشن یا ملکیت کے حوالے سے شک ہو تو وہ اپنی موبائل کمپنی کی فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے رابطہ کرکے صورت حال کی تصدیق کر سکتا ہے۔

پی ٹی اے نے اس سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ بلاک شدہ، منسوخ، غیر فعال یا غیر رجسٹرڈ سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ صارفین کے لیے بہتر ہے کہ اکاؤنٹ بند ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی رجسٹریشن بروقت درست کروا لیں۔

یہ اقدام صارفین کو یاد دہانی کراتا ہے کہ موبائل نمبر صرف کال یا پیغام رسانی کے لیے نہیں بلکہ مختلف ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی شناخت اور سکیورٹی کے لیے بھی اہم ہے۔

نوٹ: کسی مخصوص اکاؤنٹ کی موجودہ حیثیت یا پابندی کی تصدیق کے لیے پی ٹی اے، متعلقہ موبائل آپریٹر یا واٹس ایپ کے سرکاری ذرائع سے رجوع کیا جائے۔