دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے مستقبل کے حوالے سے ایک اور حیران کن پیشگوئی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس میں تیزی سے ہونے والی ترقی کے بعد ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب لوگوں کے لیے پیسوں کی بچت کرنا بے مقصد ہو جائے گا۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف کی پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ اس پوسٹ میں صارفین بحث کر رہے تھے کہ موجودہ دور میں لوگوں کو اپنے مالی فیصلوں اور مستقبل کی بچت کے بارے میں کتنی فکر کرنی چاہیے۔
اس سوال کے جواب میں ایلون مسک نے کہا کہ مستقبل بعید میں پیسوں کی فکر کرنا بے معنی ہو جائے گا۔ ان کے خیال میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مشینیں اور روبوٹس اتنی بڑی تعداد میں اشیا تیار کرنے اور خدمات فراہم کرنے لگیں گے کہ لوگوں کو اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے پہلے کی طرح کام کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اے آئی اور روبوٹس انسانی زندگی کیسے بدلیں گے؟
ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں ترقی کے باعث پیداوار کا عمل بہت زیادہ تیز اور آسان ہو جائے گا۔ مشینیں مختلف شعبوں میں ایسے کام انجام دے سکیں گی جو اس وقت انسانوں کے ذمے ہیں۔ اس سے اشیا کی تیاری پر آنے والی لاگت کم ہو سکتی ہے اور خدمات بھی زیادہ سستی اور آسانی سے دستیاب ہو سکتی ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ مستقبل میں ذہین مشینیں اور انسان نما روبوٹس صنعتوں سے لے کر روزمرہ زندگی تک اہم کردار ادا کریں گے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں کام کرنے کے طریقے، آمدنی کے ذرائع اور لوگوں کی مالی ضروریات بھی بدل سکتی ہیں۔
2036 تک دولت کی اہمیت کم ہونے کی پیشگوئی
ایلون مسک اس سے پہلے بھی دولت اور مستقبل کی معیشت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ جولائی 2026 میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ 2036 تک دولت لوگوں کے لیے زیادہ اہمیت نہیں رکھے گی۔
ان کے مطابق اس کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کی مدد سے پیداوار میں ہونے والا بڑا اضافہ ہوگا۔ جب مشینیں زیادہ مقدار میں اشیا تیار کریں گی اور خدمات فراہم کریں گی تو ممکن ہے کہ موجودہ معاشی نظام اور دولت کے بارے میں لوگوں کا تصور تبدیل ہو جائے۔
اگلے پانچ سال میں اے آئی انسانوں سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہے
ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کے حوالے سے بھی ایک اہم پیشگوئی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں اے آئی تمام انسانوں سے زیادہ ذہین ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق ٹیکنالوجی میں ترقی کی رفتار بہت تیز ہے۔ اسی وجہ سے مصنوعی ذہانت مستقبل قریب میں انسانی ذہنی صلاحیتوں سے آگے نکل سکتی ہے۔ انہوں نے اے آئی کو انسانی تاریخ کی اہم ترین ٹیکنالوجیز میں سے ایک قرار دیا ہے۔
ملازمتوں، آمدنی اور بچت کے تصورات بدلنے کا امکان
ایلون مسک کے خیالات کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت اور روبوٹس زیادہ تر پیداواری اور روزمرہ کام سنبھال لیں تو ملازمتوں کی نوعیت بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کی آمدنی، اخراجات اور بچت سے متعلق موجودہ سوچ پر بھی اثر پڑے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ جدید مشینوں سے اشیا کی تیاری آسان ہوگی، خدمات کی فراہمی بہتر ہو گی اور مختلف شعبوں میں کام کی لاگت کم ہو سکتی ہے۔ اس طرح لوگوں کو زیادہ سہولتیں میسر آ سکتی ہیں۔
تاہم یہ تمام باتیں ایلون مسک کی مستقبل سے متعلق پیشگوئیاں ہیں۔ ابھی یہ طے نہیں کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں ترقی کے بعد معیشت، ملازمتوں اور لوگوں کی مالی زندگی میں کس حد تک تبدیلی آئے گی۔ مستقبل میں ان ٹیکنالوجیز کے اثرات کا انحصار ان کے استعمال اور معاشی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں پر ہوگا۔






