تازہ ترین
طالبان کی پالیسیاں افغانستان کی ثقافتی و تاریخی شناخت کے لیے خطرہ ہیں، افغان نمائندے کا اقوام متحدہ میں خطابپاکستان اور ترکیہ کی کمپنیوں کا فیصل آباد میں 55 ملین ڈالر کا ڈیری پروسیسنگ پلانٹ قائم کرنے کا اعلانبلوچستان کی سیاسی قیادت کا گوادر میں فتنہ الہندوستان کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسیناسلامیہ کالج پشاور کے اساتذہ کا گورنر خیبر پختونخوا کو خط، 15 فیصد الاؤنس کا مطالبہسیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، 5 ہفتوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں 66 فیصد کمیکوئٹہ کی تاریخی ہنہ جھیل خشک سالی کا شکار، پانی ختم ہونے سے مچھلیاں مرنے لگیںٹنڈوآدم کے قریب کار اور بس میں خوفناک تصادم، بچے اور خاتون سمیت 4 افراد جاں بحقعمرکوٹ کے نوجوان کرکٹر قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بن گئے، علاقے میں جشن، مٹھائیاں تقسیمطالبان کی پالیسیاں افغانستان کی ثقافتی و تاریخی شناخت کے لیے خطرہ ہیں، افغان نمائندے کا اقوام متحدہ میں خطابپاکستان اور ترکیہ کی کمپنیوں کا فیصل آباد میں 55 ملین ڈالر کا ڈیری پروسیسنگ پلانٹ قائم کرنے کا اعلانبلوچستان کی سیاسی قیادت کا گوادر میں فتنہ الہندوستان کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسیناسلامیہ کالج پشاور کے اساتذہ کا گورنر خیبر پختونخوا کو خط، 15 فیصد الاؤنس کا مطالبہسیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، 5 ہفتوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں 66 فیصد کمیکوئٹہ کی تاریخی ہنہ جھیل خشک سالی کا شکار، پانی ختم ہونے سے مچھلیاں مرنے لگیںٹنڈوآدم کے قریب کار اور بس میں خوفناک تصادم، بچے اور خاتون سمیت 4 افراد جاں بحقعمرکوٹ کے نوجوان کرکٹر قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ بن گئے، علاقے میں جشن، مٹھائیاں تقسیم
دنیا

ایران کے ساتھ یا تو معاہدہ ہوگا، یا پھر کسی وقت بھی حملہ کر دیں گے، ٹرمپ

ایران

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف کسی بھی وقت نیا فوجی حملہ کر سکتا ہے یا تہران کے ساتھ کوئی بڑا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کل ہی ایران پر حملہ کر سکتا ہے یا پھر اس کے ساتھ ایک بڑا اور بہترین معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس حوالے سے کس مرحلے پر ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس بارے میں سوچ رہے ہیں اور شاید یہ کل ہی ہو جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے سے کچھ نہیں بتائیں گے کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرکے مزید فوجی کارروائی سے بچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کے حکام معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ اس پر قائم رہیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے مستقل طور پر روکنا ہے کیونکہ ماضی میں بی 2 بمبار طیاروں کا آپریشن بھی دیرپا نتائج کے لیے کافی نہیں تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئے حملوں کی تیاری کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں فوجی مشقوں کو بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز اور میزائل و ڈرون ذخائر شامل ہیں۔