تہران میں واقع روسی سفارت خانے نے بوشہر ایٹمی بجلی گھر سے اپنے سفارت کاروں اور ماہرین کو نکالنے کی خبروں کو مسترد کردیا ہے۔
ایران میں تعینات روسی سفارت خانے نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے ان خبروں کو من گھڑت اور جھوٹا قرار دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ روس اپنے سفارتی عملے اور بوشہر ایٹمی بجلی گھر پر کام کرنے والے ماہرین کو تہران سے منتقل کر رہا ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نہ تو سفارتی عملہ اور نہ ہی بوشہر ایٹمی مرکز میں موجود روسی ماہرین کا علاقے سے جانے کا کوئی ارادہ ہے۔ تمام تر کام معمول کے مطابق جاری ہے اور ان کے برعکس پھیلائی جانے والی تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔
واضح رہے کہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر ایران کی واحد فعال ایٹمی تنصیب ہے، جو اس وقت جاری امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران مسلسل حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہے۔
جولائی میں جاری کی جانے والی سیٹلائٹ تصاویر سے بھی اس ایٹمی کمپلیکس کے اندرونی حصوں کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی ہوئی تھی۔ اس تمام تر کشیدہ صورتحال کے باوجود روس نے وہاں اپنے تمام ماہرین کی موجودگی اور کام جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے۔






