اردن نے چرچ پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں شام میں فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔
شامی حکام کے مطابق اردن کی جانب سے کیے جانے والے ان فضائی حملوں کے بعد شام نے اردن کے ساتھ اپنی اہم سرحدی گزرگاہ کو بند کر دیا ہے۔
اردن کی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے کارک کے علاقے میں ایک کلیسا پر ہونے والے فائرنگ کے حملے کے جواب میں جنوبی مشرقی شام میں مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اردن میں اس ہونے والے حملے میں 9 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
اردن کی فوج کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد حملے کیے گئے، جن میں دہشت گرد گروہوں کے کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے اور ان کی گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ تاہم شامی حکومت نے تردید کی کہ کوئی پیشگی ہم آہنگی کی گئی تھی اور معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
شام کے سول دفاع کے مطابق درعا اور سویدا کے مختلف دیہی علاقوں میں حملے کیے گئے، جن میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شہید ہوئے، جن میں ایک مرد، ایک خاتون اور 3 بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دیگر حملے میں 80 سالہ بزرگ اور ایک اور مقام پر 60 سالہ شخص شہید ہوا۔
ان حملوں کے بعد شامی حکام نے دونوں ممالک کے درمیان مسافروں اور تجارتی سامان کی آمدورفت کے واحد راستے نصیب کراسنگ کو بند کر دیا۔
شامی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار نے ان حملوں کو خطرناک قرار دیتے ہوئے ملک کی خودمختاری کا تحفظ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اس سے قبل کلیسا پر حملے کے خلاف سخت ترین ردعمل کا وعدہ کیا تھا، جس کے بعد یہ کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔






