تازہ ترین
حکومت کا ایل پی جی کی درآمد سے کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا فیصلہبراؤن بریڈ واقعی وائٹ بریڈ سے بہتر ہے؟ خریدنے اور کھانے سے پہلے یہ حقیقت جان لیںروزانہ ناریل کا پانی پینے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ فوائد جان کر حیران رہ جائیں گےامریکی عوام نے ایران جنگ کو مسترد کر دیا، ایرانی اسپیکر باقر قالیبافامریکی عوام نے نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کر دیا، باراک اوباماایران جنگ نے وسط مدتی انتخابات کی شکست میں کردار ادا کیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعترافامریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیاجے یو آئی رہنماء اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں پر نیب نے طلب کرلیاحکومت کا ایل پی جی کی درآمد سے کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا فیصلہبراؤن بریڈ واقعی وائٹ بریڈ سے بہتر ہے؟ خریدنے اور کھانے سے پہلے یہ حقیقت جان لیںروزانہ ناریل کا پانی پینے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ فوائد جان کر حیران رہ جائیں گےامریکی عوام نے ایران جنگ کو مسترد کر دیا، ایرانی اسپیکر باقر قالیبافامریکی عوام نے نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کر دیا، باراک اوباماایران جنگ نے وسط مدتی انتخابات کی شکست میں کردار ادا کیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعترافامریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیاجے یو آئی رہنماء اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں پر نیب نے طلب کرلیا
دنیا

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا

وسط مدتی انتخابات

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن حکومت اور ان کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل کہا جا رہا ہے۔

وسط مدتی انتخابات میں عوام نے مہنگائی، ایران کے ساتھ جنگ اور حکومتی بدعنوانی کے خدشات پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ ایوانِ نمائندگان کے نتائج کا ابھی حتمی اعلان نہیں ہوا، تاہم ڈیموکریٹس 7 نشستیں ریپبلکنز سے جیت چکے ہیں اور ایوان میں بھی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈیموکریٹس نے امریکا کی کئی انتہائی قدامت پسند ریاستوں میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کا غیر معمولی سفر طے کیا ہے۔ جوش ٹورک نے آئیووا میں ریپبلکن رکن کانگریس ایشلے ہنسن کو شکست دی، جبکہ کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے سینیٹر راجر مارشل کو ہرایا، اس طرح ڈیموکریٹس نے کئی اہم اور غیر متوقع کامیابیاں حاصل کیں۔

ٹیکساس میں جیمز ٹیلاریکو نے کین پیکسٹن کو شکست دی جبکہ جنوبی کیرولائنا میں اینی اینڈریوز نے ڈارلین گراہم کو ہرایا۔ اوہائیو میں شیروڈ براؤن نے سینیٹر جون ہسٹڈ کو شکست دی، جبکہ رائے کوپر نے نارتھ کیرولائنا کی خالی نشست جیت لی۔

رپورٹس کے مطابق جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف دوسری بار منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے ریپبلکن رکن کانگریس مائیک کولنز کو شکست دی ہے، جس کو اہم سیاسی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ڈیموکریٹس نے بعض ایسے حلقوں پر بھی کامیابی حاصل کیں، جن کو روایتی طور پر ریپبلکنز کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی اہم نشستیں بھی برقرار رکھیں جبکہ ریاست جارجیا میں گورنر کے انتخاب میں کامیابی نے ریپبلکنز کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

ماہرین نے ان انتخابات کو ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے بارے میں عوامی رائے کو جانچنے کا ایک اہم موقع قرار دیا تھا۔ مہنگائی، درآمدی ٹیکسوں اور ایران کے ساتھ امریکی جنگ پر عوامی ناراضی نے صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت کو متاثر کیا جبکہ اسی جنگ کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ووٹوں کی گنتی شروع ہوتے ہی ریپبلکنز کے لیے پریشان کن نتائج سامنے آنے لگے تھے۔ ڈیموکریٹس نے ریاست نارتھ کیرولائنا میں ایوانِ نمائندگان کی ایک نشست ریپبلکنز سے جیت لی، یہ وہی حلقہ ہے جہاں 2024 میں ٹرمپ نے واضح برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔

فلوریڈا کے کئی انتخابی مقابلوں کے نتائج سے بھی ظاہر ہوا کہ انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی سے ریپبلکنز کو وہ فائدہ نہیں ملا جس کی انہیں توقع تھی۔

ریپبلکنز کے لیے ایک دھچکا اس وقت لگا، جب اٹلانٹا کی سابق میئر کیشا لانس باٹمز جارجیا میں منتخب ہو کر امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر  بن گئیں، جس سے ریاست میں ریپبلکنز کی 24 سال سے جاری حکمرانی بھی ختم ہو گئی۔

تاہم دوسری جانب ریپبلکنز نے بھی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کے حمایت یافتہ بائرن ڈونلڈز گورنر کا انتخاب جیت گئے اور ریاست کے پہلے سیاہ فام گورنر بن گئے جبکہ ریپبلکن ایشلے موڈی امریکی سینیٹ کی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔

ڈیموکریٹ رہنما اور نارتھ کیرولائنا کے سابق مقبول گورنر رائے کوپر نے انتخابات کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک حاصل کرتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کے سابق چیئرمین مائیکل واٹلی کو شکست دے دی، جن کو صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔

نارتھ کیرولائنا میں اس سے قبل عوام 3 بار صدر ٹرمپ کو ووٹ دے چکے ہیں تاہم اس بار رائے کوپر نے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کم کرنے کے وعدے پر انتخابی مہم چلائی۔

اسی طرح جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف نے بھی اپنے ریپبلکن حریف کو شکست دے کر اپنی نشست برقرار رکھی۔ ان کو ڈیموکریٹک پارٹی کی ابھرتی ہوئی شخصیت اور 2028 کے صدارتی انتخابات کے ممکنہ امیدواروں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

ڈیموکریٹس نے نیو ہیمپشائر میں سینیٹ کی خالی نشست بھی جیت لی، جہاں کرس پاپاس کامیاب ہوئے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما جیفریز نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک بڑی تبدیلی کے کنارے پر پہنچ گیا ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ کے 206 اور ریپبلکن کے 123 ارکان کو برتری حاصل ہے، 435 رکنی ایوان نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے کسی بھی جماعت کو 218 نشستوں پر کامیابی درکار ہے۔

امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی 19 نشستوں پر برتری کے بعد تعداد 53 ہو گئی جبکہ ریپبلکنز کو 10 نشستوں پر برتری حاصل ہوئی، جس کے بعد سینیٹ میں ریپبلکنز ارکان کی تعداد 41 ہو گئی۔ امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 100 میں سے 51 نشستیں درکار ہیں۔