صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی پر ردعمل دیتے ہوئے صدارتی ویٹو کے استعمال کا اشارہ دیا اور اعتراف کیا ہے کہ ایران کی جنگ نے الیکشن نتائج پر اثر ڈالا۔
ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے اعلان کے بعد اپنے پہلے ردِعمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی صبح ایک سرخ ٹوپی کی تصویر شیئر کی، جس پر ’’ویٹو‘‘ لکھا تھا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ شکست کی وجوہات بیان کرنے کے لیے سیاسی تجزیہ کار بن جائیں گے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا اور اگر ان کا نام شامل ہوتا تو وہ بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابی نتائج قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہیں تاکہ شاید کسی مشترکہ نقطۂ نظر تک پہنچا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیئے گئے ایک ٹیلیفون انٹرویو میں تسلیم کیا کہ ایران کے خلاف جنگ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست میں کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایک حد تک اس کی وجہ ایران تھا، لیکن ساتھ ہی لوگوں نے یہ بھی سمجھا کہ انہوں نے ایران کے معاملے پر جو کیا اس کی کیا اہمیت تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ووٹرز شاید پیٹرول کی قیمتوں کے قلیل مدتی نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کا کابینہ میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے اپنے حریف ڈیموکریٹس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس نے وسط مدتی انتخابات میں بہترین کام کیا، وہ سخت لڑے اور ہوا کا ایک رخ تھا۔






