حکومتی ذرائع کے مطابق فیسکو، گیپکو اور آئیسکو سمیت بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری 2027 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری 2027 کی پہلی سہ ماہی میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔ حکومت نے ابتدائی طور پر دسمبر 2026 میں بولی کا عمل مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ممکنہ سرمایہ کاروں کی جانب سے مزید وقت مانگنے پر نجکاری کا عمل تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ نجکاری کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔
اس کے علاوہ حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، جس کی 2027 کی دوسری سہ ماہی میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے کے تحت لاہور، ملتان، پشاور اور ہزارہ بجلی کمپنیوں کی نجکاری بھی شامل ہے، جس کا ہدف 2027 کی دوسری ششماہی مقرر کیا گیا ہے۔
چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کے مطابق توانائی کے شعبے میں اصلاحات قومی سلامتی کا معاملہ ہیں۔ بجلی کی بلند قیمتیں صنعتی مسابقت، برآمدات اور معاشی ترقی کو متاثر کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کے نرخ کم کرنا چاہتی ہے اور بجلی کی فراہمی کے شعبے میں مسابقت متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے۔ سرمایہ کاروں کے تحفظات دور کرنے کے لیے سرمایہ کاری منصوبوں اور کثیر سالہ ٹیرف کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کو اسمارٹ میٹرنگ، بجلی نقصانات میں کمی اور وصولیوں میں بہتری یقینی بنانا ہوگی، تاکہ بلاتعطل فراہمی اور بہتر کارکردگی کے فوائد عام صارفین تک پہنچائے جا سکیں۔
حکومت نومبر کے وسط تک بجلی شعبے کی مجوزہ اصلاحات عوام کے سامنے پیش کرے گی، جس میں یکساں بجلی ٹیرف کے نظام سے بتدریج انحراف اور مسابقتی بجلی فراہم کنندگان کا نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔






