تازہ ترین
کراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانبلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی دو بار پیشکش ہوئی، قمر زمان کائرہ کا اہم انکشافڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے، وزیر خزانہکراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانبلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی دو بار پیشکش ہوئی، قمر زمان کائرہ کا اہم انکشافڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے، وزیر خزانہ
کاروبار

بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری 2027 کی پہلی سہ ماہی تک ملتوی

نجکاری 2027

حکومتی ذرائع کے مطابق فیسکو، گیپکو اور آئیسکو سمیت بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری 2027 کی پہلی سہ ماہی میں متوقع ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری 2027 کی پہلی سہ ماہی میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔ حکومت نے ابتدائی طور پر دسمبر 2026 میں بولی کا عمل مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ممکنہ سرمایہ کاروں کی جانب سے مزید وقت مانگنے پر نجکاری کا عمل تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ نجکاری کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔

اس کے علاوہ حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، جس کی 2027 کی دوسری سہ ماہی میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے کے تحت لاہور، ملتان، پشاور اور ہزارہ بجلی کمپنیوں کی نجکاری بھی شامل ہے، جس کا ہدف 2027 کی دوسری ششماہی مقرر کیا گیا ہے۔

چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کے مطابق توانائی کے شعبے میں اصلاحات قومی سلامتی کا معاملہ ہیں۔ بجلی کی بلند قیمتیں صنعتی مسابقت، برآمدات اور معاشی ترقی کو متاثر کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کے نرخ کم کرنا چاہتی ہے اور بجلی کی فراہمی کے شعبے میں مسابقت متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے۔ سرمایہ کاروں کے تحفظات دور کرنے کے لیے سرمایہ کاری منصوبوں اور کثیر سالہ ٹیرف کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کو اسمارٹ میٹرنگ، بجلی نقصانات میں کمی اور وصولیوں میں بہتری یقینی بنانا ہوگی، تاکہ بلاتعطل فراہمی اور بہتر کارکردگی کے فوائد عام صارفین تک پہنچائے جا سکیں۔

حکومت نومبر کے وسط تک بجلی شعبے کی مجوزہ اصلاحات عوام کے سامنے پیش کرے گی، جس میں یکساں بجلی ٹیرف کے نظام سے بتدریج انحراف اور مسابقتی بجلی فراہم کنندگان کا نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔