کراچی (جی ٹی وی نیوز اردو): مولانا فضل الرحمان سے متعلق ہولناک اور تہلکہ خیز انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، جے یو آئی (ف) میں بدنام زمانہ اجرتی قاتل اور بدمعاش فرخ کھوکھر کی شمولیت اور پانچ مرلہ کمرشل پلاٹ کے مبینہ تحفے نے سیاسی مفادات اور جماعتی وابستگی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
سامنے آنے والے دعوے کے مطابق فرخ کھوکھر نے مولانا فضل الرحمان کو پانچ مرلہ کمرشل پلاٹ فراہم کیا، جس کے بدلے اسے جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شامل کیا گیا۔ دستاویز میں مبینہ طور پر یہ بھی درج ہے کہ سیاسی وابستگی کے ذریعے فرخ کھوکھر کو سی سی ڈی کی ممکنہ کارروائی سے تحفظ حاصل ہونے کی توقع تھی۔
یہ معاملہ محض کسی شخصیت کی سیاسی جماعت میں شمولیت تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں مبینہ مالی لین دین اور سیاسی اثرورسوخ کے استعمال سے متعلق سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا فرخ کھوکھر نے سیاسی وابستگی اور مولانا فضل الرحمان سے قربت کے ذریعے کسی قسم کے سیاسی یا انتظامی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی؟
معاملے کا سب سے اہم پہلو پانچ مرلہ کمرشل پلاٹ کی ملکیت اور منتقلی ہے۔ پلاٹ کہاں واقع ہے؟ کس تاریخ کو منتقل کیا گیا؟ اس کی اصل مارکیٹ ویلیو کتنی تھی؟ کیا واقعی یہ پلاٹ مولانا فضل الرحمان یا ان سے متعلق کسی فرد کے نام منتقل ہوا یا اس مقصد کے لیے کسی فرنٹ مین کو استعمال کیا گیا؟ ان سوالات کے جوابات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
پلاٹ کی منتقلی کی حقیقت جاننے کے لیے متعلقہ لینڈ ریکارڈ، رجسٹری، انتقال اور مالی لین دین کی دستاویزات کی جانچ ضروری ہے۔ اسی طرح فرخ کھوکھر کے خلاف موجود مقدمات، ان کی قانونی حیثیت اور متعلقہ اداروں کی کارروائیوں کی تفصیلات بھی سامنے لانا ہوں گی، تاکہ کسی ممکنہ سیاسی رعایت یا مفادات کے ٹکراؤ کا تعین کیا جاسکے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ فرخ کھوکھر جے یو آئی (ف) میں کیوں شامل ہوا، بلکہ یہ ہے کہ کیا کسی کاروباری یا مالی مفاد کے عوض سیاسی وابستگی یا تحفظ فراہم کرنے کا معاملہ موجود ہے؟ اگر پانچ مرلہ کمرشل پلاٹ کی منتقلی اور سیاسی شمولیت کے درمیان تعلق ثابت ہوتا ہے تو یہ سیاسی شفافیت اور جماعتی اخلاقیات کے حوالے سے ایک سنجیدہ معاملہ ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان اور فرخ کھوکھر دونوں کو ان دعوؤں پر اپنا مؤقف واضح کرنا ہوگا۔ متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جیل میں موجود فرخ کھوکھر سے اس معاملے پر فوری تفتیش کریں اور پلاٹ کی منتقلی سمیت تمام پہلوؤں کی چھان بین کرکے حقائق سامنے لائیں۔






