کراچی (جی ٹی وی نیوز اردو): مفتی محمود مرکز کے حوالے سے ایک اہم معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں عمارت کی تعمیر کے لیے لیبیا سے حاصل ہونے والے عطیات اور اس کے اصل استعمال پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمارت کی تعمیر لیبیا سے ملنے والے عطیات کی مدد سے کی گئی، تاہم اس کے موجودہ استعمال اور تعمیر کے لیے مختص مقاصد کے بارے میں وضاحت طلب پہلو سامنے آئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق عمارت کے سامنے مسجد کا مرکزی حصہ نمایاں طور پر تعمیر کیا گیا، جبکہ اس کے عقب میں ایک وسیع رہائشی کمپلیکس بھی موجود ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس رہائشی کمپلیکس میں مولانا فضل الرحمان کے تینوں بھائیوں کے مکانات ہیں اور یہی مقام جمعیت علمائے اسلام (ف) کی سیاسی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔
اس معاملے میں بنیادی سوال عمارت کی تعمیر یا مسجد کے قیام کا نہیں بلکہ اس مقصد کا ہے جس کے لیے لیبیا سے عطیات حاصل کیے گئے اور زمین و عمارت مختص کی گئی تھی۔ اگر یہ عمارت کسی دینی مدرسے یا مذہبی ادارے کے لیے تعمیر کی گئی تھی تو یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا اس کا استعمال اسی مقصد تک محدود رہا یا اس کے کسی حصے کو نجی رہائش اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا؟
یہ سوال بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر عمارت کے استعمال میں تبدیلی کی گئی تو کیا اس کے لیے متعلقہ قانونی اور انتظامی اجازت حاصل کی گئی تھی؟ کیا عطیات دینے والوں کو عمارت کے مکمل اور موجودہ استعمال سے آگاہ کیا گیا تھا یا نہیں؟
لیبیا سے حاصل ہونے والے عطیات کی مجموعی مالیت، ان کے استعمال کا مالی ریکارڈ اور تعمیراتی اخراجات کی تفصیلات بھی سامنے آنا ضروری ہیں۔ عطیات کی وصولی، ان کے مصرف اور عمارت کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق دستاویزات ہی ان سوالات کا واضح جواب دے سکتی ہیں۔
اگر مذہبی عطیات سے تعمیر ہونے والی عمارت کو اس مقصد سے ہٹ کر نجی رہائش یا سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے تو یہ امانت، شفافیت اور قانونی تقاضوں کے حوالے سے ایک سنجیدہ معاملہ ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ محض دعوؤں پر اکتفا کرنے کے بجائے عمارت کے اصل مقصد اور موجودہ استعمال کی دستاویزی جانچ کی جائے۔
اس سلسلے میں پشاور کے محکمہ لینڈ اینڈ ریونیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ زمین کی اصل الاٹمنٹ، ملکیتی حیثیت، منظور شدہ نقشے اور عمارت کے موجودہ استعمال کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ اسی طرح لیبیا سے موصول ہونے والے عطیات کا مالی ریکارڈ اور عمارت کے انتظامی معاملات بھی سامنے لائے جائیں۔
مذہبی ادارے عوامی اعتماد اور عطیات کی امانت پر قائم ہوتے ہیں۔ اس لیے مفتی محمود مرکز کے استعمال سے متعلق اٹھنے والے سوالات پر مولانا فضل الرحمان اور متعلقہ انتظامیہ کو واضح اور دستاویزی جواب دینا ہوں گے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ عطیات سے تعمیر ہونے والی عمارت اپنے اصل مقصد کے مطابق استعمال ہورہی ہے یا نہیں۔






