تازہ ترین
مریم نواز کا بڑا ایکشن، چودھری سالک حسین، نعیم اشرف بٹ اور اے آر وائی انتظامیہ کو قانونی نوٹس ارسالایران پر جوہری حملے کا خدشہ؟ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات کی ویڈیو سامنے آگئی، 24 گھنٹے پناہ گاہ میں رہنے کا مشورہمفتی محمود مرکز یا ذاتی و سیاسی مفادات کا مرکز؟ لیبیا کے عطیات سے تعمیر شدہ عمارت کے استعمال پر سنگین سوالاتفضل الرحمان کے مالی معاملات کے مبینہ فرنٹ مین کون؟ سیاسی اثر و رسوخ، کاروباری شخصیات اور مالی مفادات کا معاملہ پہلی بار منظر عام پرپاؤں میں جلن، سن ہونا اور سوئیاں چبھنے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ وجوہات، تشخیص اور احتیاطی تدابیرچوہدری سالک صرف ہوائی الزامات نہ لگائیں، ثبوت لائیں، ورنہ عدالتوں میں گھسیٹوں گی، مریم نوازبھیجا ہوا میسج بار بار پڑھنے کی عادت کیوں ہوتی ہے؟ ذہنی دباؤ، خود اعتمادی اور ڈیجیٹل رویےحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئیمریم نواز کا بڑا ایکشن، چودھری سالک حسین، نعیم اشرف بٹ اور اے آر وائی انتظامیہ کو قانونی نوٹس ارسالایران پر جوہری حملے کا خدشہ؟ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات کی ویڈیو سامنے آگئی، 24 گھنٹے پناہ گاہ میں رہنے کا مشورہمفتی محمود مرکز یا ذاتی و سیاسی مفادات کا مرکز؟ لیبیا کے عطیات سے تعمیر شدہ عمارت کے استعمال پر سنگین سوالاتفضل الرحمان کے مالی معاملات کے مبینہ فرنٹ مین کون؟ سیاسی اثر و رسوخ، کاروباری شخصیات اور مالی مفادات کا معاملہ پہلی بار منظر عام پرپاؤں میں جلن، سن ہونا اور سوئیاں چبھنے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ وجوہات، تشخیص اور احتیاطی تدابیرچوہدری سالک صرف ہوائی الزامات نہ لگائیں، ثبوت لائیں، ورنہ عدالتوں میں گھسیٹوں گی، مریم نوازبھیجا ہوا میسج بار بار پڑھنے کی عادت کیوں ہوتی ہے؟ ذہنی دباؤ، خود اعتمادی اور ڈیجیٹل رویےحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
دلچسپ و عجیب

بھیجا ہوا میسج بار بار پڑھنے کی عادت کیوں ہوتی ہے؟ ذہنی دباؤ، خود اعتمادی اور ڈیجیٹل رویے

بھیجے ہوئے پیغامات بار بار پڑھنا

موبائل فون اور سوشل میڈیا نے لوگوں کے درمیان رابطے کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ اب چند سیکنڈ میں کسی دوست، رشتہ دار یا دفتر کے ساتھی کو پیغام بھیجا جا سکتا ہے۔ تاہم ڈیجیٹل رابطوں کی اس سہولت کے ساتھ بعض افراد میں ایک دلچسپ رویہ بھی سامنے آتا ہے: پیغام بھیجنے کے بعد اسے بار بار کھول کر پڑھنا، اپنے الفاظ پر شک کرنا اور سامنے والے کے جواب کا مسلسل انتظار کرنا۔

بعض لوگ سوچتے رہتے ہیں کہ کہیں انہوں نے کوئی غلط لفظ تو استعمال نہیں کیا، ان کا پیغام سخت تو محسوس نہیں ہوا یا دوسرا شخص اسے غلط مطلب میں تو نہیں لے گا۔ یہ رویہ بعض اوقات معمولی غیر یقینی کا اظہار ہوتا ہے، لیکن اگر یہ مسلسل ذہنی دباؤ پیدا کرے تو اس پر توجہ دینا ضروری ہے۔

اپنے الفاظ پر بار بار شک کیوں ہوتا ہے؟

پیغام لکھتے وقت انسان سامنے والے کے چہرے کے تاثرات، آواز کے اتار چڑھاؤ اور فوری ردعمل کو نہیں دیکھ سکتا۔ عام گفتگو میں یہ اشارے بات کا مطلب سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن ٹیکسٹ میسج میں یہ سہولت موجود نہیں ہوتی۔

اسی وجہ سے بعض افراد ایک ہی جملے کے مختلف مطلب سوچنے لگتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ سامنے والا ان کے الفاظ کو ناراضی، طنز یا بے رخی کے طور پر نہ لے۔ یہ غیر یقینی انہیں پیغام دوبارہ پڑھنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔

جواب میں تاخیر سے بے چینی

پیغام بھیجنے کے بعد فوری جواب نہ ملنا بھی بعض افراد کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ وہ بار بار فون دیکھتے ہیں، آن لائن اسٹیٹس چیک کرتے ہیں یا سوچتے ہیں کہ شاید دوسرے شخص نے پیغام پڑھ کر بھی جواب نہیں دیا۔

تاہم جواب میں تاخیر کا مطلب لازماً ناراضی یا بے رخی نہیں ہوتا۔ ممکن ہے دوسرا شخص کام میں مصروف ہو، فون اس کے پاس نہ ہو یا وہ مناسب وقت پر جواب دینا چاہتا ہو۔ ہر تاخیر کو ذاتی ردعمل سمجھنا غیر ضروری ذہنی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔

تحقیق کیا بتاتی ہے؟

2024 میں جرنل Developmental Psychology میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی کاوش میں نوجوانوں کے آن لائن رابطوں اور ان کے سماجی تجربات کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق میں 43 نوجوانوں کے انٹرویوز شامل تھے۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ بعض کمال پسندی کے رجحانات رکھنے والے نوجوان آن لائن رابطوں میں زیادہ حساسیت اور خود نگرانی محسوس کرتے تھے۔

یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کچھ افراد ڈیجیٹل گفتگو کے دوران اپنے الفاظ اور دوسروں کے ردعمل کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں۔ تاہم یہ مطالعہ نوجوانوں پر کیا گیا تھا، اس لیے اس کے نتائج کو تمام عمر کے افراد پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

اس عادت کو کم کرنے کے عملی طریقے

پیغام بھیجنے سے پہلے اسے ایک مرتبہ پڑھ لینا کافی ہو سکتا ہے۔ اگر پیغام واضح اور مناسب ہے تو اسے بار بار کھولنے کی ضرورت نہیں۔ پیغام بھیجنے کے بعد فون کچھ دیر کے لیے الگ رکھیں اور کسی دوسرے کام میں مصروف ہو جائیں۔

نوٹیفکیشنز کو محدود کرنا، سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے مخصوص وقت مقرر کرنا اور ہر وقت آن لائن رہنے کی کوشش نہ کرنا بھی مفید ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر شخص کے پاس فوری جواب دینے کا وقت یا سہولت نہیں ہوتی۔

کب ماہر سے بات کرنی چاہیے؟

اگر پیغامات کے بارے میں مسلسل فکر نیند، کام، تعلیم یا تعلقات کو متاثر کرنے لگے، یا بے چینی روزمرہ زندگی میں رکاوٹ بن جائے تو مستند ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ صرف پیغام بار بار پڑھنے کی عادت کو کسی ذہنی بیماری کی تشخیص نہیں سمجھنا چاہیے؛ اس کے لیے مکمل طبی اور نفسیاتی جائزہ ضروری ہے۔