موسم خزاں کی آمد کے ساتھ درختوں کے پتے سبز رنگ چھوڑ کر زرد، سرخ یا نارنجی رنگ اختیار کرنے لگتے ہیں۔ یہ قدرتی عمل ماحول میں تبدیلی اور درختوں کی موسمی تیاری سے تعلق رکھتا ہے۔
سال کے بیشتر حصے میں پتوں میں کلوروفل نامی کیمیائی مرکب موجود ہوتا ہے، جو سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل یعنی فوٹوسنتھیسز میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کلوروفل کی موجودگی ہی پتوں کو سبز رنگ دیتی ہے۔
دن چھوٹے ہونے سے کلوروفل میں کمی
خزاں میں دن کا دورانیہ کم ہونے لگتا ہے اور درجہ حرارت میں بھی کمی آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں درختوں کے پتوں میں کلوروفل کی پیداوار گھٹنے لگتی ہے اور موجود کلوروفل ٹوٹنے لگتا ہے۔
جب سبز رنگ کم ہوتا ہے تو پتوں میں موجود دیگر رنگ دار مرکبات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ اسی وجہ سے پتے زرد، نارنجی اور بعض اوقات سرخ دکھائی دیتے ہیں۔
موسم کا پتوں کی رنگت پر اثر
روشن دنوں اور ٹھنڈی، نسبتاً خشک راتوں میں بعض درختوں کے پتوں کی رنگت زیادہ نمایاں ہوسکتی ہے۔ مختلف درختوں کی اقسام اور مقامی موسمی حالات کے باعث رنگوں میں فرق بھی ہوتا ہے۔
سردیوں میں پتے کیوں جھڑ جاتے ہیں؟
موسم سرد ہونے کے ساتھ درخت پتوں اور شاخوں کے درمیان حفاظتی تہہ بناتے ہیں۔ اس عمل کے دوران درخت غذائی اجزا کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سردیوں میں پانی کی دستیابی اور فوٹوسنتھیسز کے حالات ناموافق ہوجاتے ہیں، جس کے باعث کئی درخت اپنے پتے گرا دیتے ہیں۔ یہ عمل درخت کو سخت موسم میں توانائی اور پانی کے تحفظ میں مدد دیتا ہے۔
خزاں میں پتوں کی رنگت کی تبدیلی دراصل درختوں کے موسمی چکر کا ایک اہم اور قدرتی حصہ ہے۔






