وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے وفاقی وزیر چودھری سالک حسین، اے آر وائی نیوز کے اینکر نعیم اشرف بٹ اور چینل کی انتظامیہ کو پنجاب حکومت سے متعلق کرپشن کے بیانات پر قانونی نوٹس ارسال کردیا گیا۔
قانونی نوٹس کا پس منظر چودھری سالک حسین کا اے آر وائی نیوز کو دیا گیا حالیہ انٹرویو ہے، جس میں وفاقی وزیر نے پنجاب حکومت کی کارکردگی اور صوبے میں کرپشن کے حوالے سے سوالات اٹھائے تھے۔ چودھری سالک حسین نے پنجاب میں کرپشن سے متعلق متعدد باتیں بیان کی تھیں اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی حکومت کو بھی سراہا تھا۔
مریم نواز شریف نے ان بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر چودھری سالک حسین کے پاس پنجاب حکومت یا ان کے خلاف کرپشن کے کوئی ثبوت موجود ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے، محض الزامات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے اٹک میں ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کے دوران چودھری سالک حسین کو ہرجانے کا نوٹس بھجوانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر ذمہ دار منصب پر فائز ہیں، اس لیے انہیں الزامات کے بجائے ثبوت پیش کرنے چاہئیں۔
مریم نواز شریف نے یہ بھی سوال اٹھایا تھا کہ اگر پنجاب حکومت اتنی ہی کرپٹ ہے تو چودھری سالک حسین وفاقی حکومت میں بطور وزیر کیوں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے بنیاد باتیں کرنے والوں کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب چودھری سالک حسین نے اپنے بیان پر قائم رہنے کا عندیہ دیا۔ میڈیا سے گفتگو میں ان سے کرپشن کے الزامات کے ثبوت سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنے سابقہ انٹرویو کی جانب رجوع کرنے کا کہا اور پنجاب میں کرپشن کی موجودگی پر بھی اپنے مؤقف کو برقرار رکھا۔
مریم نواز شریف نے چودھری سالک حسین کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں افسران کی تعیناتیاں میرٹ پر کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چودھری سالک حسین کی ناراضی کی ایک وجہ ڈی سی گجرات کی تبدیلی بھی ہوسکتی ہے، تاہم کسی کو سفارش کی بنیاد پر افسر تعینات کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے چودھری پرویز الٰہی کی سابقہ حکومت کے حوالے سے وفاقی وزیر کے بیان پر بھی ردعمل دیا اور گجرات میں بارش کے دوران پیش آنے والی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ حکومت کے ترقیاتی اقدامات کو اجاگر کیا۔
دوسری جانب چودھری سالک حسین نے اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کے بجائے مؤقف برقرار رکھا ہے، جس کے بعد معاملہ سیاسی بیانات سے نکل کر قانونی کارروائی کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
قانونی نوٹس میں چودھری سالک حسین کے ساتھ اے آر وائی نیوز کے اینکر نعیم اشرف بٹ اور چینل کی انتظامیہ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ معاملے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پنجاب حکومت کے خلاف نشر کیے گئے کرپشن سے متعلق بیانات کی بنیاد کیا تھی اور کیا ان کے لیے قابلِ تصدیق شواہد موجود ہیں۔
اس پیش رفت کے بعد چودھری سالک حسین، نعیم اشرف بٹ اور اے آر وائی انتظامیہ کی جانب سے قانونی نوٹس پر آئندہ مؤقف سامنے آنا اہم ہوگا، جبکہ معاملہ مزید قانونی کارروائی کی طرف بڑھنے کی صورت میں سیاسی اور قانونی دونوں حوالوں سے اہمیت اختیار کرسکتا ہے۔










