تہران (جی ٹی وی نیوز اردو) — 3 نومبر 2026: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران جوہری حملے کی صورت میں شہریوں کے تحفظ سے متعلق ایک تفصیلی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کررہی ہے۔
🚨التلفزيون الإيراني الرسمي ووكالات الأخبار الإيرانية تنشر فيديو تحذير للمواطنين إذا وقعت ضربة نووية وعدة تعليمات للتعامل مع الانفجار النووي:-
🔴 لا تنظروا إلى الضوء شديد الانفجار.
🔴 إن كنتم في الخارج ولم تتمكنوا فوراً من دخول مبنى، احتموا خلف حاجز، واستلقوا على الأرض، وغطوا الرأس والوجه.
🔴 بعد مرور موجة الانفجار ادخلوا أقرب مبنى، لا تبقوا للمشاهدة أو التصوير، ولا تحتموا داخل السيارة.
🔴 داخل المبنى اذهبوا إلى القبو أو الوسط، بعيدًا عن النوافذ والجدران الخارجية.
🔴 أغلقوا الأبواب والنوافذ، وأطفئوا المكيف أو أي تهوية تسحب هواءً من الخارج.
🔴 إذا تعرضتم للجو الخارجي اخلعوا الملابس الخارجية دون نفضها، وضعوها في كيس محكم بعيدًا عن الناس لكن لا تخرجوا لرميه خارجاً.
🔴 اغتسلوا بماء فاتر وصابون، واستخدموا شامبو عادي بلا بلسم، وإن تعذّر الاستحمام فنظّفوا الوجه واليدين والجلد المكشوف بالماء أو المناديل المبللة.
🔴 استخدموا مياهًا معبأة وطعامًا مغلفًا، واستعدوا للبقاء في الملجأ 24 ساعة على الأقل.
🔴 لا تفترضوا أن البيئة أصبحت آمنة بعد 24 ساعة، اتبعوا الإعلانات الرسمية وبيانات الطوارئ لمسار الخروج الآمن.
🔴 إن اندلعت نيران في المبنى أو خُشي انهياره، انتقلوا إلى ملجأ أكثر أمانًا.
🔴 راجعوا هذه التعليمات مع العائلة مسبقًا لتقليل الأضرار.
— أكسيوس (@Axios_ar) November 3, 2026
فارسی زبان میں تیار کی گئی اس ویڈیو میں ایک فرضی جوہری دھماکہ دکھایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ شہری دھماکے، شدید روشنی، تباہ کن جھٹکے اور تابکار گرد سے خود کو کس طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
متعدد بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اسے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے منسوب کیا ہے، تاہم ویڈیو کی سرکاری نشریات کے وقت اور اصل ذریعے کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
جوہری دھماکہ ہو تو فوری طور پر کیا کرنا چاہیے؟
ویڈیو میں شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ جوہری دھماکے کے وقت پیدا ہونے والی انتہائی تیز روشنی کی جانب براہِ راست نہ دیکھیں۔
اگر کوئی شخص کھلے میدان میں موجود ہو اور فوری طور پر کسی عمارت میں داخل نہ ہوسکے تو اسے کسی مضبوط رکاوٹ کے پیچھے پناہ لینی چاہیے، زمین پر لیٹ کر سر اور چہرے کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
دھماکے کی ابتدائی لہر گزرنے کے بعد جلد از جلد قریبی مضبوط عمارت میں داخل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ویڈیو میں خبردار کیا گیا ہے کہ لوگ دھماکے کی تصاویر یا ویڈیو بنانے کے لیے باہر نہ رکیں اور گاڑی کو محفوظ پناہ گاہ نہ سمجھیں۔
تہہ خانے میں جائیں، کھڑکیاں بند رکھیں
ہدایات کے مطابق کسی عمارت میں داخل ہونے کے بعد شہریوں کو تہہ خانے یا عمارت کے درمیانی حصے میں پناہ لینی چاہیے۔
کھڑکیوں اور بیرونی دیواروں سے دور رہنے، دروازے بند کرنے اور باہر کی ہوا اندر کھینچنے والے ایئرکنڈیشننگ یا وینٹی لیشن سسٹم کو بند کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ان اقدامات کا مقصد ممکنہ تابکار گرد کے جسم اور رہائشی جگہوں تک پہنچنے کے خطرے کو کم کرنا ہے۔
تابکار گرد سے متاثر ہونے پر کیا کریں؟
ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص دھماکے کے بعد باہر موجود رہا ہو تو اسے اپنے اوپری کپڑے احتیاط سے اتارنے چاہئیں۔
کپڑوں کو جھاڑنے کے بجائے بند تھیلے میں رکھ کر دوسرے لوگوں سے دور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس کے بعد نیم گرم پانی اور صابن سے جسم دھونے اور بالوں کے لیے عام شیمپو استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
اگر نہانا ممکن نہ ہو تو چہرے، ہاتھوں اور کھلی جلد کو پانی یا گیلے کپڑے سے صاف کیا جاسکتا ہے۔
کم از کم 24 گھنٹے محفوظ جگہ پر رہنے کی ہدایت
شہریوں کو بوتل بند پانی اور پیک شدہ خوراک استعمال کرنے اور کم از کم 24 گھنٹے محفوظ عمارت میں رہنے کی تیاری کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
تاہم ویڈیو میں واضح کیا گیا ہے کہ 24 گھنٹے گزرنے کا مطلب یہ نہیں کہ باہر کا ماحول لازماً محفوظ ہوچکا ہے۔
لوگوں کو صرف متعلقہ حکام کی ہدایات کے مطابق ہی پناہ گاہ چھوڑنی چاہیے۔
اگر عمارت میں آگ لگ جائے یا اس کے گرنے کا خطرہ ہو تو کسی دوسری محفوظ جگہ منتقل ہونا ضروری ہے۔
کیا ایران کو واقعی جوہری حملے کا خطرہ ہے؟
یہ ویڈیو ایسے وقت میں زیرِ بحث آئی ہے جب امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایران کی ایک زیرِ زمین تنصیب پر ممکنہ امریکی جوہری حملے سے متعلق دعوے کیے ہیں۔
تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کرچکے ہیں۔
ویڈیو میں دکھایا گیا دھماکہ ایک فرضی منظر ہے، کسی حقیقی جوہری حملے کی فوٹیج نہیں۔
ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟
لبنانی اخبار النہار کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیو 21 اکتوبر کو ایک غیرسرکاری ایرانی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ویڈیو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ آگاہی مواد ہے، جس میں اصفہان کے قریب ایک زیرِ زمین مقام پر فرضی جوہری حملے کا منظر پیش کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے ارنا سے منسوب شہری دفاع کی ہدایات بھی سامنے آئی ہیں، جن میں تابکاری سے تحفظ اور محفوظ پناہ گاہوں کے انتخاب پر زور دیا گیا ہے۔
اس لیے اس ویڈیو کو کسی جوہری حملے کی پیشگی سرکاری تصدیق یا فوری جنگی انتباہ سمجھنا درست نہیں۔
البتہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں جوہری سلامتی اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات عوامی بحث کا اہم موضوع بن چکے ہیں۔






