ایرانی افواج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ کوئی جارحیت کی تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور وسیع ہوگا، جو مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی ملٹری کے ترجمان محمد اکرم نیا نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے کوئی نئی فوجی مہم جوئی کی گئی تو اس کا سامنا پہلے سے زیادہ شدید اور وسیع حملے سے ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر نئی جنگ چھڑتی ہے تو اس تنازع کا جغرافیہ صرف مغربی ایشیا کے خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے دیگر علاقوں تک پھیلا دیا جائے گا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ایرانی مسلح افواج دشمن کے تمام اثاثوں کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے ٹارگٹ بینک کو مسلسل اپ ڈیٹ کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے تنازع کی صورت میں امریکی تنصیبات، سامان، اہلکار اور مفادات دنیا میں جہاں بھی ہماری پہنچ میں ہوں گے، وہ ہمارے نشانہ بن سکتے ہیں۔
محمد اکرم نیا نے دعویٰ کیا کہ دشمنوں نے شمالی عراق کے خود مختار کرد علاقے میں موجود حکومت مخالف گروہوں کو مسلح کر کے ایران کی مغربی سرحدوں کے ساتھ زمینی محاذ کھولنے کی کوشش کی تھی، تاہم ایرانی عسکری دستوں کی بروقت تعیناتی اور ان کے ٹھکانوں پر پیشگی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کے اس منصوبے کو کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔






