روسی افواج کی یوکرین کے علاقے زاپوریژیا کے ایک امدادی مرکز پر فضائی بمباری کے نتیجے میں 26 افراد ہلاک ہوگئے۔
یوکرینی حکام کے مطابق روسی فورسز نے زاپوریژیا کے گاؤں کومیشوواخا میں واقع ایک اسکول پر بمباری کی، جو محاذِ جنگ کے قریب ہونے کی وجہ سے طلباء کے لیے بند تھا لیکن شہریوں کے لیے پناہ گاہ اور امدادی سامان کی تقسیم کے مرکز کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
یوکرینی صدر ولودی میر زیلینسکی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ روسی طیاروں نے پہلے اس وقت بمباری کی جب شہری امدادی سامان لینے کے لیے جمع ہو رہے تھے، اور اس کے بعد پناہ گاہ پر دوسرا حملہ کیا۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایمرجنسی سروسز کے 2 امدادی اہلکار اور 4 پولیس افسران بھی شامل ہیں، جبکہ 5 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
زاپوریژیا سٹی کونسل کی سیکریٹری ریجینا خارچنکو کے مطابق 27 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی ملبے تلے تلاش جاری ہے۔
صدر زیلینسکی نے کہا کہ روس کو معلوم تھا کہ لوگ امدادی سامان جمع کرنے آتے ہیں، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روس جنگ بندی نہیں چاہتا۔
زیلینسکی نے تنبیہ کی ہے کہ روسی انٹیلی جنس امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران یوکرین کے توانائی اور مواصلاتی نظام پر بڑے حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
اس حملے کے چند گھنٹوں بعد امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے اعلان کیا کہ یوکرین اور روس کے وفود 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں ملاقات کریں گے تاکہ جنگ کے بعد سیکیورٹی، کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی پر بات ہو سکے۔
یہ مذاکرات امریکی ثالثی میں ہوں گے، جس پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 21 اکتوبر کو سینٹ پیٹرزبرگ میں وٹکوف سے ملاقات کے دوران رضامندی ظاہر کی تھی۔






