بہت سے افراد رات کو سونے سے پہلے موبائل فون سائلنٹ کرکے تکیے کے قریب رکھ دیتے ہیں تاکہ صبح بیدار ہوتے ہی پیغامات اور مسڈ کالز دیکھ سکیں۔ تاہم موبائل فون کا مسلسل استعمال اور اس کی موجودگی نیند کے معمولات پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس میں اسکرین کے استعمال، نوٹیفکیشنز اور نیند کے معیار کے درمیان تعلق پر توجہ دی گئی ہے۔
مسلسل چوکنا رہنے کی کیفیت
میڈیا رپورٹ کے مطابق اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے منسوب تحقیق میں فون پر کال یا پیغام آنے کی توقع کو مسلسل چوکنا رہنے کی کیفیت (Hypervigilance) سے جوڑا گیا ہے۔
اس کیفیت میں انسان ذہنی طور پر فون کی طرف متوجہ رہ سکتا ہے، جس سے سونے کے وقت مکمل سکون حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ تاہم اس اثر کی شدت افراد میں مختلف ہوسکتی ہے۔
نیلی روشنی اور نیند کا ہارمون
ہارورڈ میڈیکل اسکول سے وابستہ تحقیق کے مطابق موبائل فون اور دیگر اسکرینز سے نکلنے والی نیلی روشنی جسم میں نیند کے ہارمون میلاٹونن کی پیداوار متاثر کرسکتی ہے۔
رات کے وقت اسکرین استعمال کرنے سے بعض افراد میں نیند آنے میں تاخیر اور سونے جاگنے کے معمولات میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
معیاری نیند کیوں ضروری ہے؟
صرف بستر پر کئی گھنٹے گزارنا کافی نہیں، بلکہ پرسکون اور معیاری نیند بھی اہم ہے۔ نیند متاثر ہونے کی صورت میں اگلے دن تھکن، چڑچڑاپن اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔
بہتر نیند کے لیے چند عادات
سونے سے پہلے موبائل فون کا استعمال محدود کریں اور غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کردیں۔ کوشش کریں کہ فون بستر سے کچھ فاصلے پر رکھا جائے اور سونے کا وقت روزانہ تقریباً یکساں رہے۔
بہتر نیند جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے اہم ہے، اس لیے رات کے وقت اسکرین کے استعمال میں اعتدال مفید ہوسکتا ہے۔






