کراچی (جی ٹی وی نیوز اردو): وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق میں مالی سال 2024-25 کے دوران اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈز کے غیر مؤثر استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ میں وزارت اور اس کے ماتحت اداروں کے حوالے سے مجموعی طور پر 8 ارب 71 کروڑ روپے سے زائد کے آڈٹ اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق نیشنل ویٹرنری لیبارٹریز (این وی ایل) نے پی سی ون میں منظور شدہ نرخوں کے برعکس پی پی آر ویکسین کی خریداری پر 5 کروڑ 89 لاکھ روپے کے اضافی اخراجات کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیبارٹری نے فی خوراک 5 روپے کے منظور شدہ نرخ کے بجائے 11 روپے 89 پیسے فی خوراک کے حساب سے 49 لاکھ 50 ہزار ویکسین خوراکیں خریدیں۔
آڈیٹر جنرل نے اس خریداری پر اعتراض اٹھاتے ہوئے منصوبے کے اختتام پر غیر ضروری اشیاء اور مہنگی ویکسین کی خریداری کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی سفارش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق منظور شدہ نرخ اور خریداری کی قیمت میں فرق کے معاملے کا تعین اور ذمہ داران کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔
رپورٹ میں آئل سیڈ اینہانسمنٹ پروگرام کے تحت پنجاب اور سندھ حکومتوں کی جانب سے 44 کروڑ 69 لاکھ روپے کے غیر استعمال شدہ فنڈز وفاقی حکومت کو واپس نہ کرنے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کے پاس 43 کروڑ 2 لاکھ روپے جبکہ سندھ حکومت کے پاس ایک کروڑ 66 لاکھ روپے کی گرانٹ غیر استعمال شدہ پڑی رہی۔
آڈٹ رپورٹ میں دونوں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر استعمال شدہ فنڈز فوری طور پر وفاقی خزانے میں واپس جمع کرائے جائیں، تاکہ سرکاری رقوم کے استعمال اور مالی حساب کتاب کو ضابطے کے مطابق یقینی بنایا جاسکے۔
آڈیٹر جنرل نے پاکستان کاٹن اسٹینڈرڈز سے متعلق فیس اور جرمانوں کی وصولی میں ناکامی پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کاٹن اسسٹنٹ متعلقہ احکامات کے باوجود ایک ارب 98 کروڑ روپے کی کاٹن اسٹینڈرڈائزیشن فیس اور جرمانے وصول کرنے میں ناکام رہا۔
آڈٹ رپورٹ میں کاٹن جننگ فیکٹریوں سے 99 کروڑ 29 لاکھ روپے کی اصل فیس اور اس کے برابر 100 فیصد جرمانے سمیت مکمل ریکوری یقینی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسی طرح ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کراچی میں طیاروں کے اسپیئر پارٹس کی خریداری پر 19 کروڑ 33 لاکھ روپے کے بے جا اخراجات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں خریداری کے طریقہ کار اور اخراجات کی ضرورت و افادیت کا جائزہ اہم قرار دیا گیا ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں سامنے آنے والے اعتراضات نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مالیاتی نظم و نسق، سرکاری فنڈز کے استعمال اور خریداری کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ رپورٹ میں مختلف معاملات پر تحقیقات، رقوم کی واپسی اور واجب الادا فیس و جرمانوں کی وصولی کی سفارش کی گئی ہے۔






