وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق میں 8 ارب 71 کروڑ روپے سے زائد کی شدید بے ضابطگیوں اور فنڈز کے عدم استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔
وفاقی وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق میں آڈٹ رپورٹ کے دوران 8 ارب 71 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا پردہ فاش ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق نیشنل ویٹرنری لیبارٹریز نے پی سی ون ریٹ کے برعکس 5 کروڑ 89 لاکھ روپے کی پی پی آر ویکسین مہنگے داموں خریدی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ این وی ایل نے 5 روپے فی خوراک کے منظور شدہ ریٹ کے بجائے 11.89 روپے فی خوراک کے حساب سے 4.95 ملین ویکسین خوراکیں خریدیں۔
اس پر آڈٹ رپورٹ میں این وی ایل میں پراجیکٹ کے اختتام پر غیر ضروری اشیاء اور مہنگی ویکسین کی خریداری کی اعلیٰ سطح تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں، آئل سیڈ اینہانسمنٹ پروگرام کے تحت پنجاب اور سندھ حکومت نے 44 کروڑ 69 لاکھ روپے کے غیر استعمال شدہ فنڈز وفاق کو واپس نہیں کیے، جس میں پنجاب حکومت کے پاس 43 کروڑ 2 لاکھ روپے اور سندھ حکومت کے پاس ایک کروڑ 66 لاکھ روپے کی گرانٹ غیر استعمال شدہ پڑی رہی۔
آڈٹ رپورٹ میں پنجاب اور سندھ حکومت سے یہ غیر استعمال شدہ فنڈز فوری طور پر وفاقی خزانے میں واپس جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کاٹن اسسٹنٹ احکامات کے باوجود ایک ارب 98 کروڑ روپے کی کاٹن اسٹینڈرڈائزیشن فیس اور جرمانہ وصول کرنے میں ناکام رہا، جس پر کاٹن جننگ فیکٹریوں سے 99 کروڑ 29 لاکھ روپے کی اصل فیس اور 100 فیصد جرمانے کے ساتھ ریکوری یقینی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کراچی میں طیاروں کے اسپیئر پارٹس کی خریداری پر 19 کروڑ 33 لاکھ روپے کے بے جا اخراجات کا انکشاف بھی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔






