حکومت نے مہنگائی سے متاثرہ اور کم آمدنی والے خاندانوں کو ایل پی جی کی قیمتوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق مستحق افراد کی نشاندہی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیٹا کی مدد سے کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ضرورت مند گھرانوں کو نسبتاً سستی ایل پی جی فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں گیس کے اخراجات میں کچھ سہولت مل سکے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی منڈی میں موجودہ صورتحال کے مطابق ایل پی جی کی قیمت تقریباً 450 روپے فی کلو بنتی ہے۔ کچھ عناصر نے ایل پی جی کی فروخت میں زیادہ منافع کمانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ عوام کو سستی ایل پی جی فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ ایل پی جی کی درآمد کا طریقہ کار مسابقت کی بنیاد پر کھولا جا رہا ہے۔ اس سے مختلف کمپنیوں کو درآمد کے عمل میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ حکومت چاہتی ہے کہ مارکیٹ میں زیادہ کمپنیوں کی موجودگی سے مقابلے کی فضا پیدا ہو۔ اس کے نتیجے میں قیمتوں کو بہتر رکھنے اور صارفین کو فائدہ پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق ایل پی جی فروخت کرنے والی تمام کمپنیوں کو اپنی ویب سائٹس پر گیس کی قیمتیں ظاہر کرنا ہوں گی۔ اس اقدام سے صارفین کو مختلف کمپنیوں کے نرخ معلوم کرنے میں آسانی ہوگی۔ وہ قیمتوں کا موازنہ کرکے مناسب نرخ پر ایل پی جی خرید سکیں گے۔ اس کے علاوہ مقامی طور پر تیار ہونے والی ایل پی جی کی فراہمی بھی آکشن کے ذریعے کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بی آئی ایس پی کے ڈیٹا کی مدد سے مستحق افراد کو ایل پی جی پر ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس طرح امداد ان گھرانوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی جنہیں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ تاہم اس ریلیف کی حتمی رقم، طریقہ کار اور آغاز کی تاریخ سے متعلق تفصیلات بیان میں نہیں بتائی گئیں۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ عوام پر اضافی مالی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ایل پی جی سے متعلق فیصلوں کی وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران گیس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ دسمبر اور جنوری میں ملک بھر میں گیس کی فراہمی برقرار رہے۔ اس مقصد کے لیے ایل پی جی کے انتظامات اور درآمد کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر کام کیا جا رہا ہے۔






