تازہ ترین
حکومت کا مستحق خاندانوں کو ایل پی جی پر ریلیف دینے کا فیصلہبلوچستان میں ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس، اسمگلنگ اور منشیات کیخلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایاتامریکی انتخابات کے بعد ایرانی ریال رکھنے والوں کیلئے بڑی خبر آگئیکراچی میں پولیس کارروائی، جمیل چھانگا گینگ کے 3 بھتہ خور گرفتاروزارت قومی غذائی تحفظ میں 8 ارب 71 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشافآزاد کشمیر کے ضلع باغ میں کامیاب کلیئرنس آپریشن، کوٹھیاں میں فسادی جتھے کا دھرنا ختمکراچی انڈسٹریل پارک کو اسپیشل اکنامک زون کا درجہ دیدیا گیاپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں تاریخی اضافہ، 85 فیصد جین زی نکلےحکومت کا مستحق خاندانوں کو ایل پی جی پر ریلیف دینے کا فیصلہبلوچستان میں ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس، اسمگلنگ اور منشیات کیخلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایاتامریکی انتخابات کے بعد ایرانی ریال رکھنے والوں کیلئے بڑی خبر آگئیکراچی میں پولیس کارروائی، جمیل چھانگا گینگ کے 3 بھتہ خور گرفتاروزارت قومی غذائی تحفظ میں 8 ارب 71 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشافآزاد کشمیر کے ضلع باغ میں کامیاب کلیئرنس آپریشن، کوٹھیاں میں فسادی جتھے کا دھرنا ختمکراچی انڈسٹریل پارک کو اسپیشل اکنامک زون کا درجہ دیدیا گیاپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں تاریخی اضافہ، 85 فیصد جین زی نکلے
پاکستان

لیبیا سے ڈالرز، دبئی ایئرپورٹ پر گرفتاری اور رہائی؟ فضل الرحمان سے متعلق نئے انکشافات

ExclusiveOriginal GTV Reporting
فضل الرحمان دبئی ایئرپورٹ گرفتاری

کراچی (جی ٹی وی نیوز اردو): مولانا فضل الرحمان سے متعلق ایک نئے دعوے میں کہا گیا ہے کہ یکم اگست 2005 کو انہیں دبئی ایئرپورٹ پر متحدہ عرب امارات کے حکام نے اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب وہ لیبیا کے شہر طرابلس سے بڑی مقدار میں امریکی ڈالرز لے کر پاکستان واپس آرہے تھے۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس واقعے میں ممکنہ ملک بدری، پاکستانی سفارت خانے کی مداخلت اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے کردار سے متعلق بھی دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم ان کی سرکاری دستاویزات سے تصدیق ہونا باقی ہے۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان 27 جولائی 2005 کو لیبیا روانہ ہوئے تھے اور پیر کی شب تقریباً ایک بجے دبئی ایئرپورٹ پہنچے۔ ان کے پاسپورٹ پر ویزا کی مہر ثبت ہونے کے باوجود انہیں ایئرپورٹ ٹرمینل میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، کیونکہ مبینہ طور پر ان کے پاس طرابلس سے لائی گئی امریکی ڈالرز کی بھاری رقم موجود تھی۔

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق دبئی ایئرپورٹ پر دوپہر کے وقت حراست میں لیے جانے کے بعد انہیں ایک ہوٹل منتقل کیا گیا، جہاں پاکستانی سفارت خانے کے حکام بھی پہنچ گئے۔

بتایا گیا ہے کہ سفارتی حکام نے متحدہ عرب امارات کے حکام سے ممکنہ ملک بدری کی شرائط پر بات چیت کی۔

اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مداخلت کے نتیجے میں یو اے ای حکام نے مولانا فضل الرحمان کو رہا کردیا تھا۔

اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر دبئی ایئرپورٹ پر گرفتاری کا واقعہ پیش آیا تھا تو اس کی سرکاری دستاویزات کہاں ہیں؟ کیا متحدہ عرب امارات کے امیگریشن یا کسٹمز حکام نے ڈالرز کی مبینہ برآمدگی اور حراست سے متعلق کوئی کارروائی ریکارڈ کی تھی؟ پاکستانی سفارت خانے کی اس معاملے میں مداخلت اور رہائی کے لیے ہونے والی مبینہ بات چیت کا ریکارڈ بھی سامنے آنا ضروری ہے۔

لیبیا سے پاکستان لائی جانے والی ڈالرز کی بھاری رقم کے مقصد پر بھی کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ رقم کس کی تھی، کس مقصد کے لیے منتقل کی جارہی تھی اور کیا اس کا تعلق کسی سرکاری، سیاسی یا مذہبی مالی معاونت سے تھا؟ ان سوالات کے جواب کے لیے رقم کی مقدار، ذرائع اور متعلقہ مالی دستاویزات کی تصدیق ضروری ہے۔

یہ معاملہ پشاور کے مفتی محمود مرکز سے متعلق پہلے سامنے آنے والے سوالات کو بھی اہم بناتا ہے۔

فراہم کردہ دعوے کے مطابق مرکز کی تعمیر میں لیبیا کی مالی معاونت شامل تھی۔ اس لیے عطیات کی مجموعی مالیت، وصولی کے ریکارڈ اور تعمیراتی اخراجات کی تفصیلات بھی سامنے آنی چاہئیں۔

مولانا فضل الرحمان کے لیبیا سے روابط، مبینہ طور پر دبئی ایئرپورٹ پر حراست، ڈالرز کی منتقلی اور رہائی کے واقعے سے متعلق تمام دعووں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ مولانا فضل الرحمان، متعلقہ سفارتی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں کا مؤقف بھی اس معاملے کی مکمل تصویر سامنے لانے کے لیے اہم ہوگا۔