تازہ ترین
حکومت کا مستحق خاندانوں کو ایل پی جی پر ریلیف دینے کا فیصلہبلوچستان میں ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس، اسمگلنگ اور منشیات کیخلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایاتامریکی انتخابات کے بعد ایرانی ریال رکھنے والوں کیلئے بڑی خبر آگئیکراچی میں پولیس کارروائی، جمیل چھانگا گینگ کے 3 بھتہ خور گرفتاروزارت قومی غذائی تحفظ میں 8 ارب 71 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشافآزاد کشمیر کے ضلع باغ میں کامیاب کلیئرنس آپریشن، کوٹھیاں میں فسادی جتھے کا دھرنا ختمکراچی انڈسٹریل پارک کو اسپیشل اکنامک زون کا درجہ دیدیا گیاپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں تاریخی اضافہ، 85 فیصد جین زی نکلےحکومت کا مستحق خاندانوں کو ایل پی جی پر ریلیف دینے کا فیصلہبلوچستان میں ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس، اسمگلنگ اور منشیات کیخلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایاتامریکی انتخابات کے بعد ایرانی ریال رکھنے والوں کیلئے بڑی خبر آگئیکراچی میں پولیس کارروائی، جمیل چھانگا گینگ کے 3 بھتہ خور گرفتاروزارت قومی غذائی تحفظ میں 8 ارب 71 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشافآزاد کشمیر کے ضلع باغ میں کامیاب کلیئرنس آپریشن، کوٹھیاں میں فسادی جتھے کا دھرنا ختمکراچی انڈسٹریل پارک کو اسپیشل اکنامک زون کا درجہ دیدیا گیاپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں تاریخی اضافہ، 85 فیصد جین زی نکلے
پاکستان

بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانی پروٹیکٹر فراڈ سے ہوشیار رہیں، اہم ہدایت جاری

بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے پاکستانی شہریوں کو پروٹیکٹر رجسٹریشن کے نام پر ہونے والے فراڈ سے خبردار کردیا گیا ہے۔

 بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر مجاز ایجنٹس اور جعل سازوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔ خاص طور پر ایسے افراد سے محتاط رہیں جو اضافی رقم لے کر فوری پروٹیکٹر کلیئرنس دلوانے کا وعدہ کرتے ہیں۔

بیورو کے مطابق بیرون ملک ملازمت یا ورک ویزے پر جانے والے پاکستانیوں کے لیے پروٹیکٹر رجسٹریشن لازمی ہے۔ تاہم اس کا عمل صرف سرکاری طریقہ کار کے تحت مکمل کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے منظور شدہ ای پروٹیکٹر نظام یا متعلقہ پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس کے سرکاری دفتر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ بعض جعل ساز خود کو پروٹیکٹر آفس کا نمائندہ یا اندرونی ایجنٹ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ شہریوں کو اضافی رقم کے عوض فوری رجسٹریشن اور کلیئرنس دلوانے کی پیشکش کرتے ہیں۔ کچھ افراد سرکاری فیس کے علاوہ سروس چارجز بھی طلب کرتے ہیں۔ جبکہ بعض شہریوں سے پاسپورٹ اور اصل دستاویزات اپنے پاس رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔ ایسے دعووں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔

بیورو نے بتایا کہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کا غیر مجاز ایجنٹس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ شہری اپنا پاسپورٹ، شناختی کارڈ، ویزا، ملازمت کا معاہدہ اور دیگر اصل دستاویزات کسی غیر متعلقہ شخص کے حوالے نہ کریں۔ ان دستاویزات کے غلط ہاتھوں میں جانے سے چوری، گمشدگی اور شناختی معلومات کے غلط استعمال کا خطرہ ہوتا ہے۔ جعل ساز ان معلومات کی مدد سے جعلی ویزے اور ملازمت کے معاہدے بھی تیار کرسکتے ہیں۔

حکام نے شہریوں کو سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر بھی احتیاط کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اپنے پاسپورٹ یا شناختی کارڈ کی تصاویر نامعلوم افراد کو نہ بھیجیں۔ ان دستاویزات کی ڈیجیٹل نقول بھی غلط مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔ اس لیے کسی بھی ایجنٹ کو اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنے سے پہلے اس کی سرکاری حیثیت کی تصدیق ضرور کریں۔

پروٹیکٹر رجسٹریشن کے لیے شہری منظور شدہ ای پروٹیکٹر نظام کے ذریعے خود آن لائن درخواست جمع کراسکتے ہیں۔ دوسرا طریقہ متعلقہ پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس کے سرکاری دفتر سے رجوع کرنا ہے۔ درخواست گزاروں کو چاہیے کہ وہ سرکاری فیس کی تصدیق کریں اور ہر ادائیگی کی رسید ضرور حاصل کریں۔ اصل دستاویزات صرف متعلقہ سرکاری اہلکار کو ضرورت کے مطابق دکھائیں۔

اگر کوئی شخص پروٹیکٹر رجسٹریشن کے نام پر رقم یا پاسپورٹ طلب کرے تو اس کی تفصیلات محفوظ کرلیں۔ اس میں متعلقہ شخص کا نام، فون نمبر، مقام، پیغامات اور ادائیگی کا ریکارڈ شامل ہوسکتا ہے۔ ایسے شخص کو مزید رقم یا اصل دستاویزات فراہم نہ کریں۔

بیورو نے فراڈ یا انسانی اسمگلنگ کے شبے کی صورت میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ہیلپ لائن 1991 پر اطلاع دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔ شہری اپنی شکایت بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ یا متعلقہ پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس کو بھی بھیج سکتے ہیں۔

حکام نے آخر میں واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ ایک اہم قانونی اور شناختی دستاویز ہے۔ بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے افراد اپنی پروٹیکٹر رجسٹریشن صرف سرکاری دفتر یا منظور شدہ آن لائن نظام کے ذریعے مکمل کریں۔ معمولی سی لاپرواہی سے شہری اپنی رقم، پاسپورٹ اور ذاتی معلومات سے محروم ہوسکتے ہیں۔