تازہ ترین
ایران نے 46 سال بعد پھر امریکی سیاست کا نقشہ بدل دیا؟ جمی کارٹر کے بعد ٹرمپ کو بھی انتخابی دھچکا، تاریخ کا حیران کن اتفاق!تاریخ خود کو دہرا رہی ہے! ایران نے پہلے جمی کارٹر کی صدارت ختم کی، اب ٹرمپ کی باری؟ مشاہد حسین سید کا بڑا دعویٰوزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئیفوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بہترین ESG رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاخطے میں قیام امن کیلئے پاکستان بھرپور کردار ادا کررہا ہے؛ وزیر اعظمسونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ؛ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےڈیموکریٹس نے کانگریس اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلی، کیا ٹرمپ کو صدارت سے ہٹایا جاسکتا ہے؟امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی تاریخی فتح، خود پسند ٹرمپ کو ایران جنگ اور مہنگائی لے ڈوبیایران نے 46 سال بعد پھر امریکی سیاست کا نقشہ بدل دیا؟ جمی کارٹر کے بعد ٹرمپ کو بھی انتخابی دھچکا، تاریخ کا حیران کن اتفاق!تاریخ خود کو دہرا رہی ہے! ایران نے پہلے جمی کارٹر کی صدارت ختم کی، اب ٹرمپ کی باری؟ مشاہد حسین سید کا بڑا دعویٰوزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئیفوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بہترین ESG رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاخطے میں قیام امن کیلئے پاکستان بھرپور کردار ادا کررہا ہے؛ وزیر اعظمسونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ؛ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےڈیموکریٹس نے کانگریس اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلی، کیا ٹرمپ کو صدارت سے ہٹایا جاسکتا ہے؟امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی تاریخی فتح، خود پسند ٹرمپ کو ایران جنگ اور مہنگائی لے ڈوبی
پاکستان

ایف آئی آر سرکاری ملازمت سے نااہلی کی بنیاد نہیں، سرکاری بھرتیوں کیلئے اہم اصول واضح

وفاقی آئینی عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی شخص کے خلاف صرف ایف آئی آر درج ہونے سے اسے سرکاری ملازمت کے لیے نااہل نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں عدالت نے سرکاری بھرتیوں کے حوالے سے چھ اہم آئینی اصول بھی واضح کیے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی امیدوار کو نااہل قرار دینے کے لیے ٹھوس اور مستند شواہد موجود ہونا ضروری ہیں۔ صرف ایف آئی آر کا اندراج جرم ثابت نہیں کرتا۔ کسی شخص کے خلاف الزام لگنا اور عدالت سے جرم ثابت ہونا دو الگ باتیں ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ جب کسی امیدوار کو عدالت سے بری کردیا جائے تو اس فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ بریت کے بعد صرف شبہے یا قیاس آرائی کی بنیاد پر منفی کریکٹر رپورٹ تیار نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح زیر سماعت مقدمات کا ذکر بھی ان کی اصل قانونی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی زیر سماعت مقدمے کو حتمی جرم تصور کرکے امیدوار کو ملازمت سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں ایک اور اہم اصول یہ طے کیا گیا کہ کسی امیدوار کو نااہل کرنے سے پہلے اس کا مؤقف سننا ضروری ہے۔ یعنی متعلقہ حکام کسی شخص کو وضاحت کا موقع دیے بغیر بھرتی کے عمل سے باہر نہیں کرسکتے۔ سرکاری ملازمتوں میں فیصلے قانون، شواہد اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔

یہ مقدمہ عبداللطیف نامی شہری کی درخواست پر سامنے آیا۔ انہوں نے 2018 میں ایک مقدمے سے بری ہونے کے بعد ڈرائیور کانسٹیبل کی آسامی کے لیے درخواست دی تھی۔ بھرتی کے عمل میں انہوں نے دوسری پوزیشن حاصل کی، لیکن پولیس نے انہیں کریکٹر رپورٹ کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا۔ درخواست گزار کے مطابق وہ مقدمے میں بری ہوچکے تھے، اس کے باوجود انہیں ملازمت نہیں دی گئی۔

عبداللطیف نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، لیکن وہاں سے انہیں ریلیف نہ مل سکا۔ بعد ازاں انہوں نے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کی۔ عدالت نے پولیس کا نااہلی کا نوٹیفکیشن اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ درخواست گزار کا طبی معائنہ اور دیگر ضروری قانونی کارروائی 30 دن کے اندر مکمل کی جائے۔ اس کے بعد ان کی تعیناتی کا حکم جاری کیا جائے۔ اس فیصلے سے سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں کے لیے یہ اصول واضح ہوا ہے کہ صرف ایف آئی آر یا بے بنیاد شبہ کسی شخص کو ملازمت سے محروم کرنے کے لیے کافی نہیں۔