تازہ ترین
ایران میں رجیم چینج کرنے نکلے تھے، اپنے ہی ملکوں میں انتخابی دھچکے کھا گئے! ٹرمپ اور نیتن یاہو کے لیے بڑا سیاسی جھٹکاایران نے 46 سال بعد پھر امریکی سیاست کا نقشہ بدل دیا؟ جمی کارٹر کے بعد ٹرمپ کو بھی انتخابی دھچکا، تاریخ کا حیران کن اتفاق!تاریخ خود کو دہرا رہی ہے! ایران نے پہلے جمی کارٹر کی صدارت ختم کی، اب ٹرمپ کی باری؟ مشاہد حسین سید کا بڑا دعویٰوزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئیفوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بہترین ESG رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاخطے میں قیام امن کیلئے پاکستان بھرپور کردار ادا کررہا ہے؛ وزیر اعظمسونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ؛ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےڈیموکریٹس نے کانگریس اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلی، کیا ٹرمپ کو صدارت سے ہٹایا جاسکتا ہے؟ایران میں رجیم چینج کرنے نکلے تھے، اپنے ہی ملکوں میں انتخابی دھچکے کھا گئے! ٹرمپ اور نیتن یاہو کے لیے بڑا سیاسی جھٹکاایران نے 46 سال بعد پھر امریکی سیاست کا نقشہ بدل دیا؟ جمی کارٹر کے بعد ٹرمپ کو بھی انتخابی دھچکا، تاریخ کا حیران کن اتفاق!تاریخ خود کو دہرا رہی ہے! ایران نے پہلے جمی کارٹر کی صدارت ختم کی، اب ٹرمپ کی باری؟ مشاہد حسین سید کا بڑا دعویٰوزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئیفوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بہترین ESG رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاخطے میں قیام امن کیلئے پاکستان بھرپور کردار ادا کررہا ہے؛ وزیر اعظمسونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ؛ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےڈیموکریٹس نے کانگریس اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلی، کیا ٹرمپ کو صدارت سے ہٹایا جاسکتا ہے؟
دنیا

ایران نے 46 سال بعد پھر امریکی سیاست کا نقشہ بدل دیا؟ جمی کارٹر کے بعد ٹرمپ کو بھی انتخابی دھچکا، تاریخ کا حیران کن اتفاق!

ExclusiveOriginal GTV Reporting
ایران جنگ کے امریکی انتخابات پر اثرات

واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو) — 4 نومبر 2026: کیا ایران ایک بار پھر امریکی سیاست کی سمت بدلنے کا سبب بن گیا؟ امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو بڑی شکست اور ڈیموکریٹس کی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی نے 46 سال پرانے ایک تاریخی واقعے کی یاد تازہ کردی ہے۔

1980 میں ایران کے یرغمالی بحران اور امریکی فوج کے ناکام ریسکیو آپریشن نے اس وقت کے صدر جمی کارٹر کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کیا تھا۔ اب 2026 میں ایران کے خلاف جنگ، بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے درمیان ٹرمپ کی جماعت کو انتخابی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

دونوں واقعات کے حالات مختلف ہیں، لیکن ایران کا امریکی داخلی سیاست میں ایک اہم مسئلے کے طور پر سامنے آنا ایک قابلِ ذکر تاریخی مماثلت ہے۔

ٹرمپ نے خود تسلیم کرلیا، ایران جنگ نے انتخابی نقصان پہنچایا

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ 4 نومبر کو اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ نے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی شکست میں کردار ادا کیا۔

فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ انتخابی نتائج میں ایران کا بھی ایک حصہ تھا۔

وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں بھی انہوں نے ایران جنگ کو انتخابی شکست کے عوامل میں شامل کیا۔

تاہم امریکی صدر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے درست اقدام کیا اور اگر دوبارہ موقع ملتا تو وہ یہی فیصلہ کرتے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹس نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔

امریکی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو بڑا نقصان

3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کئی ایسی ریاستوں میں کامیابیاں حاصل کیں جو طویل عرصے سے ری پبلکن جماعت کا مضبوط انتخابی مرکز سمجھی جاتی تھیں۔

روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان کے ساتھ سینیٹ کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا۔

ٹیکساس، کنساس، آئیووا اور جنوبی کیرولائنا جیسی ریاستوں میں بھی اہم انتخابی نتائج سامنے آئے۔

انتخابی سرویز میں ووٹروں نے مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں، ایران جنگ اور حکومتی کارکردگی کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے۔

تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام ووٹروں نے صرف ایران جنگ کی وجہ سے ری پبلکن امیدواروں کو مسترد کیا۔

1980 میں ایران نے جمی کارٹر کے لیے کیا مشکلات پیدا کی تھیں؟

4 نومبر 1979 کو تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے بعد 52 امریکی شہریوں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

یہ بحران 444 روز تک جاری رہا اور جمی کارٹر کی صدارت کے دوران امریکا کی خارجہ پالیسی کا سب سے نمایاں مسئلہ بن گیا۔

امریکی عوام میں حکومت کی صلاحیت اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق شدید بے چینی پیدا ہوئی۔

کارٹر انتظامیہ نے سفارتی کوششوں کے ساتھ ایک خفیہ فوجی آپریشن کی بھی منصوبہ بندی کی۔

امریکی فوج کا آپریشن ناکام، آٹھ اہلکار ہلاک

24 اور 25 اپریل 1980 کی درمیانی شب امریکی فوج نے ایران میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے آپریشن ایگل کلا شروع کیا۔

تاہم خراب موسم، تکنیکی مسائل اور فوجی سازوسامان کی خرابیوں کے باعث آپریشن ناکام ہوگیا۔

واپسی کی تیاری کے دوران ایک امریکی ہیلی کاپٹر اور طیارے میں تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں آٹھ امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

یہ واقعہ کارٹر انتظامیہ کے لیے ایک سنگین سیاسی دھچکا ثابت ہوا۔

اسی سال نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن امیدوار رونالڈ ریگن نے جمی کارٹر کو شکست دے دی۔

تاریخی تجزیوں کے مطابق کارٹر کی شکست میں ایرانی یرغمالی بحران کے علاوہ مہنگائی، معاشی سست روی اور دیگر داخلی مسائل بھی اہم تھے۔

1980 اور 2026 میں کیا مماثلت ہے؟

دونوں ادوار میں ایران امریکی خارجہ پالیسی کا ایک بڑا مسئلہ رہا۔

1980 میں امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے اور ناکام ریسکیو آپریشن نے کارٹر حکومت کی مشکلات میں اضافہ کیا۔

2026 میں ایران کے خلاف جنگ، اس کے معاشی اثرات اور بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی بحث کا موضوع بنے۔

دونوں مواقع پر امریکی حکمران جماعت کو انتخابی نقصان ہوا۔

لیکن ایک بنیادی فرق بھی ہے۔

1980 میں جمی کارٹر صدارتی انتخاب ہارے تھے، جبکہ 2026 میں ٹرمپ خود امیدوار نہیں تھے؛ ان کی جماعت وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کی اکثریت سے محروم ہوئی ہے۔

اس لیے دونوں واقعات کو ایک جیسا انتخابی نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ایران جنگ نے امریکی ووٹروں کو کیسے متاثر کیا؟

2026 کے انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹک امیدواروں نے ایران جنگ کے اخراجات اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو اپنی انتخابی مہم کا اہم موضوع بنایا۔

امریکی میڈیا کے مطابق ووٹروں کی ایک بڑی تعداد مہنگائی اور زندگی گزارنے کے اخراجات سے پریشان تھی۔

ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی نے بھی امریکی سیاسی بحث میں جگہ بنائی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے انتخابی سروے کے مطابق بہت سے ووٹروں نے ٹرمپ انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی سے عدم اطمینان ظاہر کیا۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران جنگ انتخابی ماحول کا ایک اہم عنصر تھی، لیکن معاشی مسائل اور دیگر سیاسی تنازعات بھی نتائج پر اثرانداز ہوئے۔

کانگریس ہاتھ سے نکلنے کے بعد ٹرمپ کو کن مشکلات کا سامنا ہوگا؟

ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ٹرمپ کو اپنی باقی صدارتی مدت میں ایک مختلف سیاسی صورتحال کا سامنا ہوگا۔

نئی کانگریس جنوری 2027 میں ذمہ داریاں سنبھالے گی۔

اس کے بعد ڈیموکریٹس قانون سازی، حکومتی اخراجات اور انتظامیہ کی نگرانی کے معاملات میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکیں گے۔

سینیٹ میں اکثریت ہونے کے باعث وہ بعض اہم صدارتی نامزدگیوں کو روکنے کی صلاحیت بھی حاصل کریں گے۔

ایران جنگ کے اخراجات، فوجی کارروائیوں اور حکومتی فیصلوں کی مزید جانچ پڑتال بھی ممکن ہے۔

تاہم کانگریس میں اکثریت کھونے سے ٹرمپ کی صدارت خودبخود ختم نہیں ہوگی اور وہ اپنی آئینی مدت کے دوران صدر رہیں گے۔

کیا تاریخ واقعی خود کو دہرا رہی ہے؟

46 سال کے فاصلے سے سامنے آنے والے دونوں واقعات امریکی سیاست میں ایران کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

جمی کارٹر کے دور میں یرغمالی بحران اور ناکام فوجی آپریشن نے ایک پہلے سے مشکلات کا شکار حکومت پر دباؤ بڑھایا۔

ٹرمپ کے دور میں ایران کے خلاف جنگ، اس کے اخراجات اور معاشی اثرات نے انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کیا۔

لیکن دونوں ادوار میں انتخابی شکست کی وجوہات صرف ایران تک محدود نہیں تھیں۔

آج کی سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ ٹرمپ نے خود ایران جنگ کے انتخابی اثرات تسلیم کرلیے ہیں، جبکہ ان کی جماعت کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھوچکی ہے۔

یوں 1980 اور 2026 کی تاریخ میں ایک غیرمعمولی مماثلت ضرور سامنے آئی ہے: دونوں مرتبہ ایران سے متعلق بحران امریکی حکمران جماعت کے لیے ایک بڑے سیاسی امتحان کا حصہ بنا۔