اسلام آباد (جی ٹی وی نیوز اردو) — 4 نومبر 2026: پاکستان کے سینئر سیاست دان اور خارجہ امور کے ماہر مشاہد حسین سید نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے سیاسی اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی ہے اور ایران دوسری مرتبہ امریکی انتخابی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کررہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں مشاہد حسین سید نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کا موازنہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے دور میں پیش آنے والے ایرانی یرغمالی بحران سے کیا۔
HITORY REPEATS ITSELF: This is 2nd time in US political history that Iran has influenced an American Election! in July 1980,Carter’s failed rescue of US hostages in Iran led to his defeat by Reagan & now @realDonaldTrump disastrous war against Iran has demolished his Presidency!
— Mushahid Hussain Sayed (@Mushahid) November 4, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ نے ان کی صدارت کو شدید سیاسی نقصان پہنچایا ہے۔
’’تاریخ خود کو دہرا رہی ہے‘‘
مشاہد حسین سید نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ امریکی سیاسی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب ایران نے امریکی انتخابات پر اثر ڈالا ہے۔
انہوں نے 1980 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں امریکی یرغمالیوں کو چھڑانے کی ناکام کوشش جمی کارٹر کی رونالڈ ریگن کے ہاتھوں شکست کا سبب بنی۔
مشاہد حسین سید کے مطابق اب ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ نے ان کی صدارت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
ان کا یہ بیان امریکی انتخابات اور ایران جنگ کے سیاسی اثرات سے متعلق ان کی رائے ہے، کسی حتمی انتخابی نتیجے کی تصدیق نہیں۔
1980 میں ایران نے امریکی سیاست کو کیسے متاثر کیا؟
4 نومبر 1979 کو تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے بعد امریکی شہریوں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
یہ بحران جمی کارٹر کی صدارت کے لیے ایک بڑا سیاسی اور سفارتی چیلنج بن گیا۔
اپریل 1980 میں کارٹر انتظامیہ نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک خفیہ فوجی آپریشن شروع کیا، جسے آپریشن ایگل کلا کا نام دیا گیا۔
تاہم ایران کے صحرا میں تکنیکی خرابیوں اور خراب موسم کے باعث یہ مشن ناکام ہوگیا۔
آپریشن کے دوران امریکی ہیلی کاپٹر اور طیارے کے حادثے میں آٹھ امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔
اس ناکامی سے کارٹر انتظامیہ کو سیاسی نقصان پہنچا اور نومبر 1980 کے صدارتی انتخابات میں رونالڈ ریگن نے جمی کارٹر کو شکست دے دی۔
تاہم مؤرخین کے مطابق کارٹر کی شکست میں امریکی معیشت، مہنگائی اور دیگر داخلی سیاسی عوامل بھی اہم تھے۔
کیا ٹرمپ کے ساتھ بھی وہی تاریخ دہرائی جاسکتی ہے؟
مشاہد حسین سید نے ایران کے خلاف موجودہ امریکی جنگ اور اس کے فوجی و مالی اخراجات کو ٹرمپ کے لیے سیاسی نقصان کا سبب قرار دیا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ ایران سے متعلق فوجی فیصلوں کے اثرات امریکی داخلی سیاست تک پہنچ رہے ہیں۔
تاہم 1980 کے صدارتی انتخابات اور 2026 کے وسط مدتی انتخابات کی نوعیت مختلف ہے۔
2026 میں امریکی عوام کانگریس اور دیگر عہدوں کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں، صدر کے انتخاب کے لیے نہیں۔
اس لیے وسط مدتی انتخابات میں کسی جماعت کی کامیابی یا ناکامی کو براہِ راست صدر کی مدتِ اقتدار کے خاتمے کے برابر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ایران اور امریکی انتخابات کا تاریخی تعلق
ایران کا یرغمالی بحران 1980 کے امریکی انتخابات کا اہم موضوع تھا، جبکہ 2026 میں ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات اور امریکی خارجہ پالیسی کے فیصلے سیاسی بحث کا حصہ ہیں۔
دونوں ادوار میں ایران امریکی سیاست میں نمایاں مسئلہ رہا ہے، لیکن دونوں واقعات کے حالات، انتخابی نظام اور سیاسی نتائج مختلف ہیں۔
مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ ایران ایک بار پھر امریکی سیاسی تاریخ پر اثرانداز ہورہا ہے۔ تاہم ٹرمپ کی جنگ نے امریکی انتخابات کو کس حد تک متاثر کیا، اس کا حتمی اندازہ انتخابی نتائج اور مستند سیاسی تجزیوں کے بعد ہی ممکن ہوگا۔





