واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو): امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
انتخابی کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس کو قانون سازی، حکومتی پالیسیوں کی نگرانی اور انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کے لیے زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے، تاہم کیا وہ صدر ٹرمپ کو عہدے سے بھی ہٹاسکتے ہیں؟ اس کے لیے امریکی آئین میں مواخذے کا طریقہ کار موجود ہے، لیکن اس عمل کی تکمیل آسان نہیں ہوگی۔
امریکی آئین کے تحت صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سب سے پہلے ایوانِ نمائندگان، یعنی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز میں مواخذے کی کارروائی شروع کرنا ہوگی۔ 435 ارکان پر مشتمل ایوان میں مواخذے کی قرارداد یا الزامات کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اگر تمام نشستیں پُر ہوں اور تمام ارکان ووٹنگ میں حصہ لیں تو کم از کم 218 ووٹ درکار ہوں گے۔
ڈیموکریٹس ماضی میں بھی صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی آگے بڑھا چکے ہیں۔ 2019 اور 2021 میں ایوانِ نمائندگان نے ان کے خلاف مواخذے کی منظوری دی تھی، تاہم دونوں مرتبہ سینیٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث ٹرمپ کو عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکا۔
اس بار بھی اصل امتحان سینیٹ میں ہوگا۔ ایوانِ نمائندگان سے مواخذے کی منظوری کے بعد معاملہ سینیٹ میں منتقل کیا جائے گا، جہاں باقاعدہ ٹرائل ہوگا۔ اس دوران صدر کے خلاف عائد الزامات، شواہد اور گواہوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، جبکہ مواخذے کی کارروائی میں ایوانِ نمائندگان کے نامزد نمائندے استغاثہ کا کردار ادا کریں گے۔
امریکی آئین کے مطابق صدر کے مواخذے کے مقدمے کی صدارت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کریں گے، تاہم فیصلہ سپریم کورٹ نہیں بلکہ سینیٹ کرے گی۔ صدر کو مجرم قرار دینے اور عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں موجود ارکان کے دو تہائی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ اگر تمام 100 سینیٹرز موجود ہوں تو کم از کم 67 ووٹ حاصل کرنا لازمی ہوں گے۔ ارکان کی تعداد کم ہونے کی صورت میں مطلوبہ ووٹ بھی اسی تناسب سے تبدیل ہوں گے۔
اس کا مطلب ہے کہ ڈیموکریٹس کو صرف اپنی اکثریت پر انحصار کرنے کے بجائے ری پبلکن سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل کرنا ہوگی۔ محض کانگریس اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلینا صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کافی نہیں۔
یوں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنا ڈیموکریٹس کے لیے ممکن ہوسکتا ہے، لیکن انہیں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں آئینی طور پر درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہوگی۔ یہی وہ مرحلہ ہے جو اس پورے عمل کو سیاسی اور آئینی اعتبار سے انتہائی اہم بناتا ہے۔






