امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے ریپبلکن پارٹی کے مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
امریکی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدل السید نے ریپبلکن پارٹی کے سابق رکن کانگریس مائیک راجرز کو ایک انتہائی اہم مقابلے میں شکست دے دی ہے۔
اس تاریخی کامیابی کے ساتھ ہی عبدل السید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب ہو گئے ہیں۔ فتح کے بعد اپنے انتخابی مہم کے دفتر میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے کامیابی حاصل کر لی ہے اور انہیں فخر ہے کہ وہ عظیم ریاست مشی گن سے سینیٹ منتخب ہو کر عوام کے سامنے کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے جب نتائج کے حوالے سے بات کی جاتی تھی تو انشا اللہ کہتے تھے لیکن آج ہم الحمدللہ کہیں گے۔ عبدل السید نے اپنی انتخابی مہم کی مخالفت میں 42 ملین ڈالر خرچ کرنے والی تنظیم کا شکریہ بھی ادا کیا۔
عبدل السید نے اپنے شکست خوردہ حریف مائیک راجرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ سے لطف اندوز ہوں، کیونکہ انہوں نے نفرت کا انتخاب کیا جبکہ مشی گن نے امید کو چنا ہے۔
42 سالہ ڈاکٹر عبدل السید 1969 کے بعد امریکی سینیٹ میں منتخب ہونے والے پہلے ڈیموکریٹ ڈاکٹر بھی بن گئے ہیں اور وہ ریٹائر ہونے والے سینیٹر گیری پیٹرز کی جگہ لیں گے۔
انہوں نے صحت کی مفت سہولتوں سمیت بائیں بازو کے نظریات پر مبنی انتخابی وعدوں کے ذریعے ووٹروں کی حمایت حاصل کی۔
انہوں نے ووٹروں کو یقین دلایا کہ وہ امریکہ کے پیچیدہ نظامِ صحت میں ان کی مدد کریں گے اور منافع پر مبنی طبی نظام میں بڑی تبدیلیاں لائیں گے۔
انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ریپبلکنز کے مضبوط سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی بڑے عوامی اجتماعات کیے اور عوامی حمایت حاصل کی۔






