وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے حکومت و اپوزیشن کے درمیان جاری معاملات اور مجوزہ آئینی ترامیم پر تفصیلی گفتگو کی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے بلاول بھٹو کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں خیبر پختونخوا میں امن و امان، گورننس اور وفاقی حکومت کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں اختیارات اور انتظامی معاملات پر وفاق اور پیپلز پارٹی کے درمیان مشاورت ہوئی اور پیپلز پارٹی کی جانب سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو صوبائی معاملات میں مؤثر کردار اور اختیارات دینے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔
ملاقات میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال، حکومت و اپوزیشن کے درمیان جاری معاملات اور آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ میں اہم قانون سازی اور مجوزہ آئینی ترامیم پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
پیپلز پارٹی نے مجوزہ قانونی بلوں کی منظوری سے قبل انہیں اعتماد میں لینے اور ان کا مسودہ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے تحفظات وزیراعظم کے سامنے رکھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے اور قانون سازی کے معاملات پر مکمل اعتماد میں لینے کی یقین دہانی کروائی۔
اس کے علاوہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل اور اس کے سربراہ کے انتخاب کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، جہاں پیپلز پارٹی نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کی چیئرمین شپ حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
اتحادی جماعتوں کو کمیٹی میں نمائندگی دینے کے معاملے پر بھی پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لیا گیا اور وزیراعظم نے بلاول بھٹو زرداری کو سیاسی و قانون سازی کے امور پر مسلسل مشاورت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
پیپلز پارٹی کے وفد میں گورنر خیبر پختونخوا، گورنر پنجاب، چیئرمین سینیٹ، نوید قمر اور راجا پرویز اشرف بھی اس اہم ملاقات اور عشائیے میں شریک تھے۔






